آئیسکو کی نجکاری کے خلاف واپڈا ملازمین کا وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ* *منافع بخش بجلی کمپنیوں کی نجکاری غیردانشمندانہ اقدام ہے، حکومت راست اقدام پر مجبور نہ کرے۔ جاوید اقبال بلوچ*

*آئیسکو کی نجکاری کے خلاف واپڈا ملازمین کا وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ*
*منافع بخش بجلی کمپنیوں کی نجکاری غیردانشمندانہ اقدام ہے، حکومت راست اقدام پر مجبور نہ کرے۔ جاوید اقبال بلوچ*
*سٹاف کی کمی دور کی جائے، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل اور میٹر ریڈنگ اور لائن سٹاف کی دوردراز ٹرانسفر کا سلسلہ بند کیا جائے*

اسلام آباد ( ) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے زیراہتمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری، ادارے میں سٹاف کی کمی، کنٹریکٹ ملازمین کی عدم مستقلی اور دیگر مزدور دشمن حکومتی اقدامات کے خلاف نیشنل پریس کلب کے باہر ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت واپڈا سی بی اے کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین اور آئیسکو کے ریجنل چیئرمین جاوید اقبال بلوچ، ڈپٹی چیئرمین طارق مسعود نیازی، راولپنڈی کینٹ سرکل کے چیئرمین قمر فاروق کلیامی، زونل سیکرٹری عامر سہیل، سٹی سرکل کے نامزد چیئرمین عمران عزیز، زونل سیکرٹری ملک حسنین شہید، اٹک سرکل کے چیئرمین نعیم محمود، زونل سیکرٹری محمد صدیق، اسلام آباد کے زونل سیکرٹری قاسم رضا جعفری، اکبر علی خان، جی ایس او کے چیئرمین سردار وقار احمد خان، زونل سیکرٹری چوہدری محمد قاسم، پی ڈی کنسٹرکشن زون کے چیئرمین داؤد گل، زونل سیکرٹری رانا ابرار حسین، لالہ انار گل، جہلم سرکل کے خرم نسیم بٹ، ملک خالد محمود، چکوال سرکل کے محمود منہاس، ابراہیم بھٹی، زونل چیئرمین ریجنل سٹور شجاع احمد، میٹر ریڈنگ تحریک کے چیئرمین راجہ عمر حیات جنجوعہ اور دیگر عہدیداران کر رہے تھے جبکہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر چنگیز ملک اور انقلابی سٹوڈنٹ فرنٹ کے راہنما راجیش کمار اور دیگر مزدور راہنماؤں نے واپڈا یونین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت کی۔ بارش اور خراب موسم کے باوجود اٹک، جہلم، چکوال، راولپنڈی اور اسلام آباد سے ملازمین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، مظاہرین ملک میں آئی ایم ایف کے ایجنڈے کے نفاذ، قومی اداروں کی توڑ پھوڑ، حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں اور بجلی کمپنیوں کی نجکاری سمیت آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری اور واپڈا ملازمین و محنت کش طبقے کو درپیش دیگر مشکلات کیخلاف نعرے بازی کررہے تھے انہوں نے ہاتھوں میں کتبے و بینر اٹھا رکھے تھے جن پر نجکاری کے خلاف اور ملازمین کے مطالبات کے حق میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ مظاہرے میں ڈویژنل چیئرمین راجہ کامران سلیم، عمران خان، نسیم اسلم چٹھہ، چوہدری محمد ارشد، رانا غلام محمد، عاصم رضا جعفری، افضال احمد ستی، انصر جمیل، ملک فرحت عباس، لالہ سکندرخان، امین خٹک، سجی خان، شکیل بابر، طاہر محمود، فیضان فضل صدیقی، سید راحت عباس، ملک عاصم، سید قیصر شاہ، جاوید اختر، ملک ارشد، جی ایس او کے ملک سجاد اعوان، فیض رسول، دانش کفیل، راجہ خیام، عمر سعود، مسعود بھٹی اور آئیسکو کمپیوٹر سنٹر کے چیئرمین خورشید احمد اور سیکرٹری بلال بٹ سمیت ملازمین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ اس موقع پر جاوید اقبال بلوچ اور دیگر عہدیداران نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور منافع بخش بجلی کمپنیوں کی نجکاری کے ارادے سے باز رہے۔ ادارے میں ہزاروں اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں انہیں فوری طور پر پر کیا جائے تاکہ کام کے دباؤ کی وجہ سے دوران کار آئے روز بڑھتے ہوئے حادثات کا تدارک ہو اور کارکنوں کی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ آئیسکو پاکستان کی نمبر ون منافع بخش کمپنی ہے اور امسال بھی اس کی کارکردگی مثالی رہی ہے گیپکو اور فیسکو بھی اپنے صارفین کی بہترین خدمت کر رہی ہیں پھر حیرت ہے کہ حکومت قوم کے اس قیمتی اثاثے کو نجی سیٹھوں کے حوالے کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہے جبکہ ماضی میں کراچی، راولپنڈی اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنیوں اور تھرمل پاور ہاؤسوں کی نجکاری کا تجربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ جاوید بلوچ نے مزید مطالبہ کیا کہ آئیسکو میں میٹر ریڈنگ اور لائن سٹاف کی دوردراز علاقوں میں بلاجواز ٹرانسفر کا سلسلہ ختم کیا جائے تمام عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے ضروری فنڈز جاری کیے جائیں اور حکومت نجکاری پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے ہمیں راست اقدام پر مجبور نہ کرے۔ مقررین نے کہا کہ حکومت نے قومی اداروں کی تقسیم، نجکاری، برطرفیوں اور عوام دشمن اور مزدور دشمن اقدامات کے ذریعے پورے ملک میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر رکھا ہے سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے میں مایوسی، بے چینی اور پریشانی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے انہوں نے نے خبردار کیا کہ حکمرانوں کے محلات کا بٹن ہمارے ہاتھ میں ہے اگر قومی ادارے کو بیچنے کی کوشش کی گئی تو حکمرانوں کے محلات کی بجلی بند کر دیں گے اور واپڈا کے ایک لاکھ سے زائد ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں