صحافی ریحان طارق کی بعداز گرفتاری ضمانت منظور
لاہور: سیشن عدالت لاہور نے صحافی اور اینکر پرسن ریحان طارق کی بعداز گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت علی صدیقی نے درخواست پر سماعت کی۔ ریحان طارق کی جانب سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر کے متن سے کسی قابلِ دست اندازی جرم کا ارتکاب ثابت نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق تاریخی و مذہبی سوالات پر مبنی انٹرویو کرنا پاکستانی قانون کے تحت جرم نہیں، جبکہ مقدمے میں صحافی کی کسی الیکٹرانک ڈیوائس کے استعمال یا متنازع ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا بھی کوئی ثبوت موجود نہیں۔
دفاع نے مزید مؤقف اپنایا کہ مقدمے میں شامل تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں اور ریحان طارق کو ضمانت دینا ان کا آئینی حق ہے۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے جعلی شواہد پر انحصار کیا اور ایک غیر موجود فیس بک پیج کو صحافی سے منسوب کیا، جبکہ اسی انٹرویو کے میزبان مذہبی اسکالر جواد نقوی کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے ایس ایچ او نجم باجوہ نے درخواستِ ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ جواد نقوی کو ملزم نہیں بنایا گیا، تاہم ریحان طارق کے سوالات اور ان کا انداز متنازع تھا، جس سے مذہبی اور مسلکی کشیدگی کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ریحان طارق کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض بعداز گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔