اسلام آباد: جی-8 میں مبینہ کال سینٹر پر چھاپہ، بڑے پیمانے پر سائبر کرائم نیٹ ورک بے نقاب

اسلام آباد میں ڈیجیٹل جرائم کے ایک بڑے نیٹ ورک کے انکشاف نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سائبر سکیورٹی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں
اسلام آباد: جی-8 میں مبینہ کال سینٹر پر چھاپہ، بڑے پیمانے پر سائبر کرائم نیٹ ورک بے نقاب
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی-8 میں گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جو ملک میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل جرائم کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران ایسے شواہد حاصل ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ کال سینٹر کو منظم انداز میں شہریوں کو بلیک میل کرنے، نجی معلومات چرانے اور آن لائن ہراسانی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ملزمان مبینہ طور پر جدید سافٹ ویئر اور ہیکنگ ٹولز کے ذریعے شہریوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے، نجی ویڈیوز اور ڈیٹا چوری کرتے اور پھر متاثرین کو بلیک میل کرتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف مقامی بلکہ بیرونِ ملک افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افراد جعلی ویزوں کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دینے کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے دیگر کال سینٹرز کے موجود ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جہاں نوجوانوں کو ملازمت کے نام پر شامل کر کے غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ ضبط شدہ کمپیوٹرز، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور ریکارڈ کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں سائبر کرائم کے خلاف قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ غیر معروف کالز، مشکوک لنکس اور آن لائن روابط سے محتاط رہیں اور اپنی نجی معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے انکشافات کے بعد کیا متعلقہ ادارے اس غیر قانونی کاروبار کا مکمل خاتمہ کر پائیں گے یا یہ نیٹ ورک کسی اور شکل میں دوبارہ فعال ہو جائے گا؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت سے ہی سامنے آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں