خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر اہم فیصلے کا امکان، وفاقی کابینہ ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت، طارق فضل چوہدری کا پورے صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا بیان

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، جبکہ اس حوالے سے وفاقی سطح پر مشاورت تیز ہونے اور اعلیٰ سطح کا اجلاس بلائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ صحافیوں کی جانب سے کیے گئے دعوؤں اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے بیان کے بعد صوبے میں ممکنہ آئینی اقدامات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں مزید اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔ تاہم گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا حتمی فیصلہ تاحال باضابطہ طور پر سامنے نہیں آیا۔

صحافی طارق عزیز نے اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے کے باعث وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ ان کے مطابق ذرائع نے وفاقی کابینہ کا اجلاس جلد بلائے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس اطلاع کو ممکنہ فیصلے کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے، تاہم اجلاس کے انعقاد اور اس کے ایجنڈے کی باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔

دوسری جانب صحافی عادل شاہ زیب نے اپنے ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے فیصلہ قریب ہے اور کل شام یا پرسوں تک اس ضمن میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ گورنر فیصل کریم کنڈی ہی صوبے کے معاملات سنبھال سکتے ہیں، جبکہ سابقہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی اور الگ انتظامی سیٹ اپ کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔
عادل شاہ زیب کے مطابق مجوزہ سیٹ اپ کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ کی تشکیل کا عمل تقریباً مکمل ہوچکا ہے اور ایک مضبوط و بااثر سیاستدان کو بھی گورنر فیصل کریم کنڈی کی کابینہ میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی سیٹ اپ کی تیاری مکمل ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی فیصلہ فیصلہ سازوں نے کرنا ہے اور آخری مرحلے پر تبدیلی کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔ ان دعوؤں کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
طارق فضل چوہدری کا پورے صوبے میں ایمرجنسی لگانے کا بیان
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق غور و خوض مکمل ہوچکا ہے اور اگر ایمرجنسی نافذ کی گئی تو یہ صرف 12 اضلاع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خیبرپختونخوا میں نافذ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے اور مذاکرات میں پیش رفت صوبائی حکومت کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون سے مشروط ہوگی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع دہشت گردی سے متاثر ہیں اور موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت کو امن و امان کے قیام پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
طارق فضل چوہدری نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ پاکستان کسی صورت دہشت گردی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام سہیل آفریدی کی جگہ کسی اور کو وزیراعلیٰ منتخب کریں۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اہم فیصلوں کا امکان
ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، جس میں صدر مملکت، وزیراعظم اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع بتائی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے اور صوبے کی صورتحال سے متعلق آئندہ لائحہ عمل پر غور ہوگا۔ ابتدائی اطلاعات میں سابقہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز بھی سامنے آئی تھی، جبکہ صوبے میں بعض اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کے امکان پر بھی غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 تک کے تحت ممکنہ اقدامات کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے تازہ بیان کے مطابق زیر غور ایمرجنسی کا دائرہ صرف 12 اضلاع تک محدود رکھنے کے بجائے پورے صوبے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔
گورنر راج، ایمرجنسی، ٹیکنوکریٹس پر مشتمل مجوزہ کابینہ اور وفاقی اختیارات کے ممکنہ استعمال سے متعلق ان اطلاعات کی حتمی حیثیت سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔
لانگ مارچ کے شیڈول میں تبدیلی، مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کا دعویٰ
ادھر تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شیڈول میں تبدیلی مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے کی گئی تھی۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب سے اسد قیصر سے رابطہ کیا اور انہیں لانگ مارچ کے حوالے سے قدرے سست روی اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے صوابی پہنچنے سے پہلے ہی مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے شیڈول میں تبدیلیاں کی گئیں، جبکہ مارچ کو دو سے تین شہروں کی جانب موڑنے کا فیصلہ بھی ان کے مشورے پر کیا گیا۔
تاہم اس دعوے کے حوالے سے علامہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ انہیں اور محمود خان اچکزئی کو لانگ مارچ یا مذاکرات سے متعلق مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والے رابطوں کا علم نہیں۔ اس بیان کے بعد لانگ مارچ کے شیڈول میں تبدیلی کے معاملے پر سیاسی حلقوں میں مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔
سیاسی اور آئینی صورتحال پر نظریں مرکوز
خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے نے وفاقی اور صوبائی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف وفاقی وزیر پورے صوبے میں ایمرجنسی کے امکان کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب صحافیوں کے ٹویٹس میں وفاقی کابینہ کی نقل و حرکت، متوقع اجلاس، گورنر کے ممکنہ کردار اور نئے انتظامی سیٹ اپ سے متعلق دعوے سامنے آئے ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کرتی ہے، گورنر راج کی طرف بڑھتی ہے یا موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف تعاون کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ ان تمام امکانات کے بارے میں حتمی صورتحال متعلقہ حکام کے باضابطہ فیصلے اور اعلان کے بعد ہی سامنے آئے گی۔