66

بیوی کو طلاق دو ورنہ میں اور تمہاری بہن زہر گھالوں یا تم ماں کا حکم بیٹے نے ممتا کی محبت اور بیوی کے عشق میں زہر کھا کر جان دے دی

    لاہور (کرءم رپورٹر) بیوی کو طلاق دو ورنہ میں اور تمہاری بہن زہر گھالوں یا تم ماں کا حکم بیٹے نے ممتا کی محبت اور بیوی کے عشق میں زہر کھا کر جان دے دی،گوپال نگر کا 23 سالہ افضل تمام خاندان کو بچانے کے لئے قربان ہو گیا،اہل خانہ نے معاملہ دبانے کے لئے بیوہ اور اس کے اہل خانہ کو تشدد کا نشان بنا ڈالا کوئی قانونی کاروائی نہ کرو گے اشٹام پر دستخط کرو ،بیوہ نے پولیس کو تمام واقع کی اطلاع دے دی تھانہ نصیر آباد پولیس نے لاش قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کروادی۔زینب بیوہ افضل کے مطابق کہ وہ تھانہ نصیر آباد کے علاقہ گوپال نگر گلبرگ تھری پرانے ائیرپورٹ کے علاقہ کی رہایشی کی رہایشی ہے اور 23 سالہ افضل شریف نامی نوجوان نے تین ماہ قبل اپنے والدین کو منانے کے بعد ہمارے ہاں رشتہ لینے کے لئے بھیجا اور شادی کروالی تاہم اس شادی سے افضل کی بہن حمیرہ انتہائی نا خوش تھی کیونکہ وہ بھائی کی شادی اپنے سسرال میں کروانا چاہتی تھی جس سے بھائی افضل انکار کر چکا تھا شادی کے بعد سے ہی حمیرہ اپنے بھائی اور میرا رشتہ ختم کروانے کے در پر ہو گئی اور سسرال جانے کی بجائے میکے میں ہی ڈیرے ڈال دیئے اور روزانہ کی بنیاد پر بھائی اور مجھ سے لڑائی شروع کر دی اور بھائی کی غیر موجودگی میں مجھے تشدد کا نشانہ بنانا اور جہیز کے سامان میں کیڑے نکالنے شروع کر دیئے اور موقع بے موقع بھائی کو ورغلانے کی کوشش کی اور والدہ شکیلہ بی بی نے بھی بیٹی کا ساتھ دینا شروع کر دیااور بیٹے کو بیوی کو طلاق کا کہنا شروع کر دیا تاہم افضل راضی نہ ہوا اور اس نے اپنے سسر (میرے والد) نعمان سے تمام واقعات کا زکر کر دیا اور درخواست کر دی کہ کوئی کرایہ کا مکان لے دیں مگر میرے والد نے انکار کردیا اور سمجھایا کہ ماں باپ کو چھوڑنے سے اللہ بھی ناراض ہو گا اور دنیا میں بھی بدنامی ہو گی لہذا آپ والدین کو راضی کرو۔ تین روز قبل افضل کی بہن بھائی کو بلانے آءی اور کہا کہ آپ کو والدہ ہمسائے میں موجود چچا شفیق کے گھر بلا رہی ہیں جبکہ اس وقت میری والدہ مجھ سے ملنے میرے سسرال میں تھیں میرے شوہر افضل نے ہمیں بیٹھنے کا کہا اور خود والدہ کی بات سننے چچا شفیق کے گھر جو بلکل برابر میں تھا بات سننے چلا گیا مگر میں اور میری والدہ بھی افضل کے پیچھے چل پڑیں جہاں شفیق ،میری ساس شکیلہ اور سسر محمد شریف پہلے سے موجود تھے جبکہ حمیرہ میری نند افضل کے ہمرہ پہنچی جہاں ساس شکیلہ نے میرے شوہر سے ایک بار پھر طلاق کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس لڑکی کو چھوڑ دو ورنہ میں زہر کھا لوں گی جبکہ نند حمیرہ نے بھی کہا کہ اگر ایسا نہ کیا تو وہ بھی زہر کھا کر جان دے دے گی اس کے فوری بعد چچا شفیق نے پاس پڑے ہوئے شاپر سے ایک پٹیا نکالی اور میز پر رکھتے ہوئے بتایا کہ اس میں زہر (گندم میں رکھنے والی گولیاں )ہیں لہذا اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے ماں بہن کو رکھنا ہے یا بیوی کو جس پر پہلے تو افضل نے ان کو سمجھایا کہ میں نے پسند سے شادی کی اب میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا مگر ماں بضد رہی جس ہر افضل نے انتہائی جذباتی قدم اٹھاتے ہوئے زہر کی گولی اٹھاءی اور منہ ڈال کر پانی پی لیا زینب کے مطابق میں اور میری والدہ فوری بھاگے اور افضل کو اٹھا کر ہسپتال کی جانب بھاگے جبکہ محلہ دار جگو نامی شخص نے فوری موٹر سائیکل نکالی اور ساتھ بٹھا کر ہسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹروں نے دیکھتے ہی افضل کی طبعیت کی بحالی سے نا امیدی ظاہر کر دی مگر سب کچھ جاننے کے باوجود بھی افضل کی والدہ بہن اور والد کی جانب سے کوئی ہسپتال نہ پہنچا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں