جناح گارڈن فیز ٹو میں نالے کی زمین پر کروڑوں روپے کے پلاٹ بنانے کے لیے غیر قانونی قبضے کا انکشاف، سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج، پولیس کارروائی میں مشینری سمیت متعدد ملزمان گرفتار
اسلام آباد: فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے جناح گارڈن فیز ٹو میں بڑے نالے کی زمین پر مبینہ غیر قانونی قبضے اور اسے مٹی ڈال کر بھرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ نالے کی زمین پر قبضہ کرکے کروڑوں روپے مالیت کے پلاٹ بنانے کی کوشش کے الزام میں سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جناح گارڈن فیز ون کے بعد اب فیز ٹو میں بھی نالے کی اراضی پر مبینہ قبضے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں بڑے نالے کو مٹی ڈال کر ختم کرنے اور اس کی زمین کو پلاٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف درج ایف آئی آر میں صدر، سیکرٹری، منیجر اور سائیڈ انچارج کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے چھاپے کے دوران صدر، سیکرٹری اور سائیڈ انچارج موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ دیگر ملزمان کو مبینہ طور پر مشینری سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
اس واقعے نے جناح گارڈن فیز ون میں سامنے آنے والے زمینوں اور مبینہ غیر قانونی قبضوں کے معاملات کے بعد فیز ٹو کی انتظامیہ کے کردار پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ نالے کی اصل حدود اور زمین کی ملکیت کا تعین کیا جائے، غیر قانونی طور پر ڈالی گئی مٹی ہٹائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے سرکاری و عوامی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے۔
نوٹ: ایف آئی آر میں درج الزامات اور گرفتاریوں کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں؛ آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایف آئی آر میں نامزد افراد کے خلاف الزامات عدالتی فیصلے تک ثابت شدہ جرم تصور نہیں ہوں گے۔