🔴 بریکنگ نیوز | غریب عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم، ایل پی جی کی قیمتیں آسمان پر!
سرکاری نرخ 279 روپے، مارکیٹ میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگی، حکومتی رٹ اور پیرا فورس کی کارکردگی پر سنگین سوالات!
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی من مانی قیمتوں نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے لیے سرکاری نرخ 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود مختلف علاقوں میں ایل پی جی 500 سے 600 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مہنگی بجلی، پٹرول، بے روزگاری اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان عوام اب کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والی گیس بھی دگنے سے زائد نرخوں پر خریدنے پر مجبور ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب سرکاری نرخ موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد کون کروائے گا؟
پنجاب میں گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کے لیے قائم پیرا فورس کی موجودگی میں قیمتوں کا یہ حال انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اوگرا اور ضلعی انتظامیہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
ایل پی جی کی ترسیل میں رکاوٹیں اور سپلائی کی کمی اپنی جگہ، لیکن کیا ان مسائل کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دینا انصاف ہے؟
غریب آدمی آخر کہاں جائے؟ بجلی مہنگی، پٹرول مہنگا، آٹا مہنگا اور اب چولہا جلانا بھی عیاشی بنتا جا رہا ہے!
نیشنل وائس کا وزیراعلیٰ پنجاب، اوگرا، پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی گراں فروشی کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے، سپلائی بحال کی جائے اور سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی بنائی جائے۔
عوام کو اعلانات نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔ قانون صرف کاغذوں پر نہیں، بازاروں میں بھی نظر آنا چاہیے!