اٹک: گرلز کالج کے باہر نازیبا ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے تین نوجوان سی سی ڈی پولیس کے حوالے سے حراست میں، نوجوانوں کی معذرت، آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ
اٹک میں گورنمنٹ گرلز گریجویٹ کالج کے باہر نازیبا الفاظ استعمال کرکے ویڈیو بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے تین نوجوانوں کو سی سی ڈی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ نوجوانوں نے اپنی حرکت کو اخلاقی طور پر غلط تسلیم کرتے ہوئے کالج کی اساتذہ، طالبات اور ان کے والدین سے معذرت کرلی۔
تفصیلات کے مطابق حراست میں لیے گئے نوجوانوں میں طاہر اختر ولد اختر، سکنہ گاؤں جسیاں تحصیل اٹک، تحسین خان ولد محمد اسلم خان، سکنہ صدر اٹک کینٹ، اور عدن مائیکل ولد مائیکل، سکنہ جیکی بستی صدر اٹک کینٹ شامل ہیں۔
تینوں نوجوانوں نے بعد ازاں جاری کی گئی ویڈیو میں اعتراف کیا کہ گرلز گریجویٹ کالج اٹک کے باہر ویڈیو بنانا اخلاقی طور پر غلط تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ڈی پولیس نے انہیں اپنے دفتر بلا کر مناسب انداز میں سمجھایا، جس کے بعد انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے آئندہ ایسی کوئی ویڈیو نہ بنانے کا وعدہ بھی کیا۔
دوسری جانب خواتین کی مختلف تنظیموں، شعبۂ تعلیم سے وابستہ خواتین اساتذہ اور طالبات نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، سربراہ سی سی ڈی سہیل چٹھہ، ریجنل آفیسر سی سی ڈی راولپنڈی حسن جہانگیر وٹو، ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی اٹک یاسر مطلوب کیانی، ایس ایچ او تھانہ سی سی ڈی اٹک انسپکٹر سید عمران حیدر کاظمی اور دیگر اہلکاروں کی کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
خواتین کی جانب سے اس اقدام کو تعلیمی اداروں کے احترام، طالبات کے تحفظ اور خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے دوسروں کو بھی سبق ملے گا اور تعلیمی اداروں کے باہر غیر اخلاقی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔