خیبرپختونخوا میں غیرمعمولی انتظامی تبدیلیاں، 12 نامزد اضلاع میں ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم، ایڈمنسٹریٹرز کو وسیع انتظامی و سیکیورٹی اختیارات دے دیے گئے، سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری، گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم، پہلے اجلاس میں امن و امان، دہشتگردی کے خاتمے اور گورننس کی بہتری کو اولین ترجیح قرار دے دیا گیا۔
وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے نامزد اضلاع میں امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکمنامے کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کو نامزد اضلاع میں شامل کیا گیا ہے۔
حکمنامے کے تحت ایریا ڈیویلپمنٹ سیکریٹریٹ ایریا ریپریزنٹیٹو و ڈیویلپمنٹ کونسل کی نگرانی میں کام کرے گا، جبکہ سیکریٹریٹ کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکریٹری کریں گے، جو نامزد اضلاع کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہوں گے۔ متعلقہ اضلاع میں صوبائی افسران اور اہلکار سیکریٹریٹ کے انتظامی و آپریشنل کنٹرول میں کام کریں گے۔
ایڈمنسٹریٹرز کو گورننس، سیکیورٹی، ترقیاتی امور اور قانون نافذ کرنے کے حوالے سے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ وہ سول انتظامیہ، پولیس اور فوجی حکام کو ہدایات جاری کرنے کے علاوہ انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو اور فنڈز کی تقسیم و منتقلی سے متعلق احکامات بھی جاری کر سکیں گے۔ نامزد اضلاع میں افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں کے احکامات ایڈمنسٹریٹر کی سفارش پر وزیراعظم جاری کریں گے۔
وفاقی حکومت کے مطابق متعلقہ اضلاع میں وفاقی اداروں، مسلح افواج اور صوبائی محکموں کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے سیکیورٹی بہتر بنائی جائے گی، جبکہ عوامی تحفظ، معاشی استحکام اور امدادی سرگرمیوں کے لیے محکموں کی تنظیمِ نو بھی کی جا سکے گی۔ حکمنامے میں ایڈمنسٹریٹر کے احکامات کو صوبائی حکومت کے احکامات کے مساوی قانونی حیثیت دینے اور بعض آئینی و انتظامی دفعات اور رولز آف بزنس 1985 کے اطلاق سے استثنا دینے کی شقیں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبرپختونخوا میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کی جان و مال اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ فوجی دستوں کی تعداد کا تعین گورنر خیبرپختونخوا ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد کریں گے، جبکہ تعیناتی سے متعلق حکم نامہ گزٹ آف پاکستان میں شائع کیا جائے گا۔ یہ تعیناتی 11 اکتوبر 2026 کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت جاری اعلان کی مدت کے لیے ہوگی۔
ادھر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل بھی قائم کر دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
کونسل میں کفایت اللہ خان مشیر داخلہ، طارق محمود پاشا مشیر خزانہ، عامر جاوید مشیر قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ مشیر تعلیم، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان مشیر صحت، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ مشیر معدنی وسائل، ڈاکٹر محمد ارشاد مشیر صنعت و تجارت، آصف رفیق آفریدی مشیر مواصلات، ہاؤسنگ و مقامی حکومت، مولانا محمد طیب قریشی مشیر مذہبی امور، عثمان سیف اللہ مشیر توانائی و منصوبہ بندی اور ثمر ہارون بلور مشیر اطلاعات مقرر کی گئی ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیرصدارت ایڈوائزری کونسل کے پہلے اجلاس میں صوبے کی مجموعی صورتِ حال، امن و امان، دہشتگردی کے خاتمے، گورننس اور عوامی مسائل کے حل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام نے دہشتگردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے، اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ خیبرپختونخوا کو دوبارہ امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نظام کی بہتری کے لیے ایڈوائزری کونسل پر اعتماد کیا ہے اور تمام ارکان کو درپیش چیلنجز کا احساس کرتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی، جبکہ عوام کو سرکاری دفاتر کے غیرضروری چکروں سے نجات دلانا بھی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
گورنر نے واضح کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ قانون کے دائرے میں رہنے والے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھائی جائے گی اور سیکیورٹی اداروں کو بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور تعلیم، صحت، انصاف سمیت دیگر شعبوں میں شفافیت لائی جائے گی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرے، انہیں بندوق کے بجائے قلم اور کتاب کی طرف راغب کیا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں وہ اپنے خواب پورے کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہونے سے سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ ریاستی اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے اور محروم علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوگا، جس میں صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکلات ضرور زیادہ ہیں، لیکن صوبے میں امن کے قیام اور عوام کو دہشتگردی سے نجات دلانے کا عزم ان مشکلات سے کہیں بڑا ہے۔