خیبرپختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل، پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کے سنگین الزامات، عطاء اللہ تارڑ

خیبرپختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل، پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کے سنگین الزامات، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی دہشت گردی سے متعلق پالیسیوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کے حوالے سے مبینہ حمایت کے باعث صوبے میں ہزاروں شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں وفاقی وزراء محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے ایڈوائزری کونسل کی تشکیل اور اس میں شامل شخصیات کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں کے اہل اور تجربہ کار افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ صوبے کے انتظامی معاملات اور عوامی مسائل پر توجہ دی جا سکے۔

11 رکنی ایڈوائزری کونسل میں کون کون شامل ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق ایڈوائزری کونسل میں درج ذیل شخصیات کو مختلف شعبوں کا مشیر مقرر کیا گیا ہے:

* کفایت اللہ خان — مشیر داخلہ

* طارق محمود پاشا — مشیر خزانہ

* عامر جاوید، سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا — مشیر قانون

* ڈاکٹر سید عامر عبداللہ — مشیر تعلیم

* لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان — مشیر صحت

* ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، سابق ایڈوائزر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ — مشیر معدنیات

* ڈاکٹر محمد ارشاد — مشیر صنعت و تجارت

* آصف رفیق آفریدی — مشیر مواصلات و تعمیرات

* مولانا محمد طیب قریشی — مشیر مذہبی امور

* عثمان سیف اللہ خان — مشیر توانائی

* ثمر ہارون بلور، رکن قومی اسمبلی — مشیر اطلاعات و نشریات

پی ٹی آئی پر دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ کا الزام

عطاء اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور دہشت گرد عناصر کے درمیان گٹھ جوڑ تھا، جس کے باعث صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی۔ ان کے بقول انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس میں بھی صوبے کی صورتحال پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دہشت گردوں اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم تک معاملات پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کو بعض علاقوں میں نقل و حرکت کی آزادی حاصل تھی اور انہیں مالی وسائل بھی فراہم کیے جاتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا تھی، لیکن ان کے بقول حکومت اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے بعض اضلاع میں دہشت گرد عناصر کو مضبوط ہونے کا موقع ملا، جہاں شہریوں، مساجد، ہسپتالوں، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔

پولیس سے متعلق بل پر بھی اعتراض

وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا میں پولیس سے متعلق پیش کیے گئے ایک بل پر بھی اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس قانون سازی کے ذریعے دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد کے لیے پولیس میں بھرتی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بعض عہدوں پر براہ راست ڈی ایس پی کی تعیناتی کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورننس اور انتظامی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے اور ترقیاتی امور پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔

صوبائی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹانے کا دعویٰ

وفاقی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے سے متعلق پی ٹی آئی کی پالیسیوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

انہوں نے طالبان کی خواتین سے متعلق پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں خواتین کے حقوق متاثر ہوتے رہے ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی، شہریوں کے تحفظ، مؤثر حکمرانی اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ تاہم پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے خلاف عائد کیے گئے الزامات وفاقی وزیر کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کا مؤقف اس فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں