خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاریاں مکمل ہونے کا دعویٰ، 12 اضلاع میں پہلے مرحلے پر ایمرجنسی لگانے کی تجویز زیرِ غور

پشاور: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سیاسی اور انتظامی سرگرمیاں تیز ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے دعوے کے مطابق صوبے کے پہلے مرحلے میں 12 حساس اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جبکہ انتظامی افسران کی بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے لیے بھی ہوم ورک مکمل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں ڈویژن کے تمام اضلاع، کوہاٹ ڈویژن کے اضلاع اپر کرم اور لوئر کرم سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان، ضلع خیبر، باجوڑ اور مہمند میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ ضم اضلاع میں انتظامی افسران کو تیار رہنے کی ہدایات دیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ انتظامی اقدامات کے تحت ڈپٹی کمشنرز، صوبائی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں میں تبدیلیوں کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ ریجنل پولیس افسران (آر پی اوز) اور ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) کی نئی تعیناتیوں سے متعلق فہرستیں بھی تیار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم ان اطلاعات پر وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم پس پردہ رابطے بدستور جاری ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان رابطوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ردعمل

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قوتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پُرامن احتجاج کریں گے کیونکہ یہ ان کا آئینی حق ہے۔ ان کے بقول، انہیں کبھی گورنر راج اور کبھی سکیورٹی کے نام پر ڈرایا جاتا ہے، تاہم اگر کوئی ایسا اقدام کیا گیا تو عوام پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی پر ردعمل صرف پی ٹی آئی یا وزیراعلیٰ کی جانب سے نہیں بلکہ عوام کی طرف سے بھی سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا۔

دہشت گردی کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ آپریشن کے حق میں نہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آپریشن کی اجازت دینے کے بجائے اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

رنگ روڈ فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد

دریں اثنا، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ انٹرسیکشن پر لیول ٹو فلائی اوور کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا۔ منصوبے کے تحت 640 میٹر طویل، دو لین پر مشتمل ڈوئل کیرج وے فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جس کی تخمینہ لاگت 6 ارب 20 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 4.5 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر بھی منصوبے میں شامل ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے پشاور میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کو آمدورفت میں سہولت ملے گی۔ ان کے مطابق 200 ارب روپے کے پشاور بحالی پلان پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ آؤٹر رنگ روڈ منصوبے کا افتتاح بھی جلد کیا جائے گا۔

یوں ایک جانب صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں تو دوسری جانب وزیراعلیٰ نے اپنے بیانات میں پُرامن احتجاج، مذاکرات اور ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت سے متعلق اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی صورتِ حال وفاقی حکومت کے باضابطہ فیصلے اور سرکاری اعلان سے ہی واضح ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں