اکیس برس بعد بھی 2005 کے زلزلے کے زخم پوری طرح مندمل نہ ہو سکے، سینکڑوں تعمیر نو منصوبے تاحال شروع نہ ہو سکے
8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو 21 برس بیت گئے، تاہم اس سانحے کے بعد شروع ہونے والا تعمیرِ نو کا عمل آج بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق صرف پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بحالی اور تعمیرِ نو کے 7608 منصوبوں میں سے 811 منصوبے مالی مشکلات کے باعث تاحال شروع ہی نہیں ہو سکے، جبکہ 919 منصوبوں پر کام جاری ہے۔
8 اکتوبر 2005 کی صبح آنے والے شدید زلزلے نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں خاندان اپنے پیاروں، گھروں اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں تقریباً 46 ہزار افراد جان سے گئے جبکہ تین لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہوئے۔
زلزلے نے صرف رہائشی عمارتوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے تقریباً 53 فیصد رقبے میں صحت، تعلیم، آب رسانی، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔
سانحے کے فوراً بعد حکومت پاکستان، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت، مقامی اداروں اور عالمی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر امدادی اور بحالی کا آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی مرحلے میں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے، خوراک اور خیموں کی فراہمی اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر توجہ مرکوز رہی۔
بعد ازاں بحالی اور تعمیرِ نو کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد تباہ شدہ عمارتوں کی دوبارہ تعمیر کے ساتھ ساتھ مستقبل میں زلزلوں کے نقصانات کم کرنے کے لیے زلزلہ مزاحم تعمیرات کو فروغ دینا بھی تھا۔ اسی مقصد کے تحت ایرا (ERRA) اور سیرا (SERRA) سمیت متعلقہ اداروں نے تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کو زلزلہ مزاحم ڈیزائن اور تعمیراتی طریقوں کی تربیت بھی فراہم کی۔
تعمیرِ نو کے اس پروگرام کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی اور ایرا سیرا کے ریکارڈ کے مطابق 2011 میں ایرا کو اقوام متحدہ کی جانب سے ساساکاوا ایوارڈ سے نوازا گیا۔
125 ارب روپے کا نقصان، تقریباً 198 ارب روپے کے منصوبے
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 125 ارب روپے لگایا گیا تھا، جبکہ اب تک تقریباً 198 ارب روپے مالیت کے تعمیرِ نو کے منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن پر تقریباً 168 ارب روپے خرچ ہوئے۔ اس رقم میں مختلف ڈونرز اور اسپانسرز کی جانب سے براہِ راست کیے گئے اخراجات بھی شامل ہیں۔
تاہم دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تعمیرِ نو کا سفر ابھی مکمل نہیں ہو سکا۔
7608 منصوبوں میں سے 811 تاحال شروع نہیں ہو سکے
ایرا اور سیرا کے ریکارڈ کے مطابق زلزلے سے متاثرہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سات اضلاع، مظفرآباد، ہٹیاں، نیلم، باغ، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی میں بحالی اور تعمیرِ نو کے مجموعی طور پر 7608 منصوبے زیرِ کار رہے۔
ان میں سے 5878 منصوبے، یعنی تقریباً 77 فیصد مکمل ہو چکے ہیں، 919 منصوبوں، یعنی تقریباً 12 فیصد پر کام جاری ہے، جبکہ 811 منصوبے، تقریباً 11 فیصد، مالی مشکلات کے باعث تاحال شروع نہیں ہو سکے۔
یوں 21 برس گزرنے کے باوجود تعمیرِ نو کے پروگرام میں سینکڑوں ایسے منصوبے موجود ہیں جن پر عملی کام شروع ہونا ابھی باقی ہے۔
فنڈز کی کمی، تعمیرِ نو کی رفتار متاثر
تعمیرِ نو کے پروگرام کو گزشتہ کئی برس سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ سیرا کے ریکارڈ کے مطابق مختلف مالی سالوں میں تعمیرِ نو کے لیے طلب کی جانے والی رقم کے مقابلے میں انتہائی محدود فنڈز جاری کیے گئے۔
مالی سال 2010-11 میں تقریباً 27 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں ساڑھے 7 ارب روپے فراہم کیے گئے، 2011-12 میں 33.32 ارب روپے طلب کیے گئے لیکن صرف 5.380 ارب روپے جاری ہوئے۔
2012-13 میں 16.2 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں 3.564 ارب روپے، 2013-14 میں 14 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں 1.512 ارب روپے، 2014-15 میں 10 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں تقریباً 756 ملین روپے اور 2015-16 میں 6.96 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں 1.048 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
اسی طرح 2016-17 میں 8 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں تقریباً 953 ملین روپے، 2017-18 میں 16.9 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں تقریباً 1.026 ارب روپے، 2018-19 میں 9.504 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 996 ملین روپے اور 2019-20 میں 19.812 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں صرف 731 ملین روپے جاری ہوئے۔
2020-21 میں تقریباً 9.604 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں محض 373 ملین روپے فراہم کیے گئے۔
سات برس میں صرف 5.559 ارب روپے جاری
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات برس کے دوران سیرا کو مجموعی طور پر تقریباً 5.559 ارب روپے جاری کیے گئے، جو بعض ایک سال کی طلب سے بھی کم رقم بنتی ہے۔
سیرا کے مطابق مالی مشکلات کے باوجود گزشتہ سات برس کے دوران بالخصوص تعلیم اور صحت کے تقریباً 463 منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان منصوبوں میں اسکول، ہسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی شامل ہے۔
باقی منصوبوں کے لیے مزید 30 ارب روپے درکار
سیرا کے مطابق تعمیرِ نو پروگرام کے باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 30.107 ارب روپے درکار ہیں۔
ان میں 2.429 ارب روپے مکمل شدہ منصوبوں سے متعلق واجبات کی ادائیگی، 12.615 ارب روپے جاری منصوبوں کی تکمیل جبکہ تقریباً 15.061 ارب روپے ان منصوبوں کے لیے درکار ہیں جن پر کام ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔
21 برس بعد بھی سوال برقرار
8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 21 برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران ہزاروں عمارتیں دوبارہ تعمیر ہوئیں، اسکولوں اور ہسپتالوں نے دوبارہ کام شروع کیا، سڑکیں بحال ہوئیں اور متاثرہ علاقوں میں زندگی بڑی حد تک معمول پر آگئی۔
تاہم تباہی کا حجم اس قدر وسیع تھا کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود تعمیرِ نو کے تمام اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ایک جانب زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر بحالی اور تعمیرِ نو ہوئی، تو دوسری جانب مسلسل مالی مشکلات نے باقی ماندہ منصوبوں کی رفتار متاثر کی۔
اکیس برس بعد 2005 کے زلزلے کی یاد صرف ان خاندانوں تک محدود نہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، بلکہ ان نامکمل منصوبوں میں بھی زندہ ہے جو آج بھی فنڈز اور تکمیل کے منتظر ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اسی مواد کو ٹی وی/ڈیجیٹل کے لیے زیادہ مؤثر، جذباتی اور مختصر رپورٹ کی شکل میں بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔