خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کرک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب، حکومت اور طاقتور حلقوں پر سخت تنقید
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے صوبے میں ہی ہوں گے، بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے، اور وہ ہر اس پالیسی کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہیں گے جو عوام کے حق میں نہیں ہوگی۔
بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکاء کے طویل انتظار اور حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ’’ٹیسٹ میچ‘‘ ہے، دو دن بعد اسے ٹی ٹوئنٹی میچ بنا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ صرف پشتونوں کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ رات کرک میں گزاریں گے اور اگلے روز کرک کے عوام بھی لانگ مارچ میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کل شام کو عمران خان کے وزیراعلیٰ اور پشتونوں کے وزیراعلیٰ نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے امریکہ کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا تھا، جبکہ انہوں نے بند کمروں کے فیصلہ سازوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا ہے۔ ان کے بقول بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے ہمیشہ پشتونوں کا خون بیچا، اب فیصلے عوام کی امنگوں کے مطابق میدانوں میں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع پر ہمیشہ دہشتگردی اور آپریشنز مسلط کیے جاتے رہے ہیں جبکہ ڈرون حملوں میں کولیٹرل ڈیمیج ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 22 سال سے جو پالیسی نافذ کی جا رہی ہے، اس سے دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا نے امن صرف عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور میں دیکھا، جبکہ حکومت کی تبدیلی کے بعد جب دوبارہ دہشتگردی مسلط کی جا رہی تھی تو وہ مسلسل آواز اٹھاتے رہے، مگر انہیں جھوٹا قرار دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے پاس بندوقیں نہیں بلکہ عوامی طاقت ہے اور جنوبی اضلاع کے عوام نے ہر ایسی پالیسی مسترد کی جو ان کے مفاد میں نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ’’صرف ایک ہی راج چلتا ہے اور وہ عمران خان کا راج ہے۔‘‘
کرک میں دوسرے خطاب کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ اگلے روز لانگ مارچ کرک سے آگے بڑھے گا، جبکہ اگلا پڑاؤ کوہاٹ ہوگا اور صوابی پہنچ کر آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قافلہ صوابی پہنچے گا تو ’’طاقتوروں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی۔‘‘
انہوں نے آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین و قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی پشتونوں، آپریشنز اور ڈرون حملوں کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے ناسمجھ قرار دیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی نے طاقتور حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہیں گے جو پشتونوں کے سروں کا سودا کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے عمران خان، ان کی اہلیہ اور بہنوں کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ ناحق قید کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کی بہنیں بھی جیل میں ہیں۔ ان کے بقول عمران خان یہ سب کچھ نوجوانوں اور ان کے بچوں کے مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔
سہیل آفریدی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل کے لیے باہر نکلیں، بصورت دیگر حکمران عوام کی خون پسینے کی کمائی لوٹتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتوروں کو پیغام دینا ہوگا کہ عوام بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بار تحریک جیتنی ہے، عدلیہ، پارلیمنٹ اور میڈیا کو آزاد کرانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے شرکاء سے کہا کہ وہ باہر نکلیں، وہ خود انہیں لیڈ کریں گے اور ’’حقیقی آزادی‘‘ حاصل کرکے رہیں گے۔