پشاور: ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی، ایم این اے شاندانہ گلزار اور سینئر ایڈووکیٹ معظم بٹ کی مشترکہ پریس کانفرنس، وفاقی حکومت پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور صوبے کے حقوق سے متعلق سخت تنقید
پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی غیر قانونی طور پر قید ہیں، جبکہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اٹھانے کے لیے محنت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں کتنے دن کے لیے نکلیں گے، تاہم نکلیں گے ضرور، کہاں تک اور کیسے جائیں گے، اس کا فیصلہ وقت آنے پر ہوگا۔
شاندانہ گلزار نے کہا کہ شوکت یوسفزئی ہمارے بھائی ہیں اور ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں، تاہم فیصلے کسی ایک فرد کی رائے پر نہیں ہوتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ایسا نظام بنا دیا گیا ہے کہ ایک نہیں تو دوسرا نکلے گا۔
انہوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستان کو ایک منصوبے کے تحت پہلے صوبوں میں تقسیم اور پھر کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بقول سی آئی اے پاکستان کو توڑ رہا ہے اور جن لوگوں نے سی آئی اے سے وعدے کیے تھے وہ وعدے پورے کیے جا رہے ہیں۔ یہ الزامات شاندانہ گلزار کے سیاسی دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ان بیانات میں نہیں کی گئی۔
شاندانہ گلزار نے وفاقی وزرا کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک مالی بحران سے گزر رہا ہے، گیس اور بجلی کے بل کون دے گا اور پٹرول کون ڈلوائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قربانیاں دینے والوں کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور بعض بیانات آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے بھارت کو پاکستان کا کھلا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاندانہ گلزار نے خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹانک، ڈی آئی خان اور کوہاٹ کے حالات سب کے سامنے ہیں، جبکہ شمشتو کے مقام پر ڈرون حملے اور ان کے علاقے میں چوکی پر حملے کے واقعات بھی پیش آئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کی جانب سے ٹی ٹی پی سے متعلق خط بھی ریکارڈ پر ہے اور سوال اٹھایا کہ طالبان کو کس نے تربیت دی اور مضبوط کیا۔ تاہم ان دعوؤں کی مزید دستاویزی تفصیلات پریس کانفرنس کے فراہم کردہ متن میں موجود نہیں۔
شاندانہ گلزار نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی واحد وزیراعلیٰ ہیں جو فارم 45 کے مطابق منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی یا گورنر راج لگانا ہے تو بلوچستان میں لگایا جائے جہاں، ان کے بقول، ریاستی رٹ کا مسئلہ موجود ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو اعلان کے مطابق نکلیں گے اور کہا کہ راستے میں جتنے بھی کنٹینرز لگائے جائیں، وہ ڈرنے والے نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو اٹھایا جا رہا ہے، آخر ہو کیا رہا ہے؟
سینئر ایڈووکیٹ معظم بٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے بیانات سنے ہیں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی تیاری کی جا رہی ہے اور اس حوالے سے یکم اکتوبر کو اجلاس بلانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔
معظم بٹ نے کہا کہ ریاست کا دشمن ہمارا دشمن ہے، جبکہ اسمبلی کے ارکان کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر امیر مقام کو چیلنج کیا کہ وہ خیبرپختونخوا آکر مناظرہ کریں کہ ملک کو نقصان کون پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے قیام کا مقصد صوبوں میں یکساں نظام قائم کرنا تھا اور وفاقی حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ پختون پاکستان کا حصہ ہیں اور ملک کے ہر علاقے میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ریاست نہیں، ریاست میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔
معظم بٹ نے کہا کہ پختونوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہے ہیں اور پنجاب سے آنے والے بعض الزامات کو وہ تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اپنے معدنی وسائل میں صوبے کا حق مانگے گا۔
انہوں نے سیاسی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی سطح پر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا پاکستان کا اہم صوبہ ہے جس نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب سمیت پورا پاکستان ان کا ہے اور پاکستان کی فوج میں پختون بھی بڑی تعداد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
معظم بٹ نے کہا کہ سیاست دانوں کو پاکستانی عوام اور ان کے حقوق نہیں بھولنے چاہئیں، انہیں ان کے حقوق یاد دلائے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو اعلان کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں میں شرکت کی جائے گی اور کہا کہ کارکن کنٹینرز سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔