دل زاک چوک انڈر پاس کی افتتاحی تقریب جلسے میں تبدیل، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج
پشاور: دل زاک چوک انڈر پاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک بھر میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہی مقام پر جلسے کا چیلنج دے دیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آج عوام نے افتتاحی تقریب کو جلسے میں تبدیل کردیا ہے۔ پنجاب کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ان کے سفر کے دوران راستے اور مارکیٹیں بند کردی گئیں، جبکہ گزشتہ روز ایک وفاقی وزیر پشاور آئے تو صوبائی حکومت نے کوئی راستہ بند نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ ٹانگے برابر لوگ بھی موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام حکمرانوں اور ان کے ساتھ موجود اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرتے ہیں کہ پورے پاکستان میں جگہ اور وقت کا انتخاب کیا جائے، تمام سیاسی جماعتیں جلسہ کریں اور ہم بھی جلسہ کریں گے۔ اگر وہ جیت گئے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے اور اگر ان کی جماعت کامیاب ہوئی تو مخالفین عمران خان سے معافی مانگیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ مخالفین ان کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ فکس میچ نہیں کھیلتے، اسی لیے وہ ڈرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کنٹینرز کا حوالہ دیتے ہوئے کارکنوں سے کہا کہ کیا وہ ان کنٹینرز سے ڈرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عمران خان کے کھلاڑی ہیں اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عمران خان نے انہیں بہادری کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گورنر راج کا چیلنج بھی قبول کرتے ہیں اور مخالفین گورنر راج لگا کر دکھائیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مینڈیٹ سے حکومت قائم ہوئی ہے، اسے گرانے کی کوشش کی گئی تو صوبے کے نوجوان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کا جذبہ ٹی ٹوئنٹی میچ والا ہے، لیکن اس مرتبہ ٹیسٹ میچ ہے، پہلے آہستہ کھیلیں گے اور پھر چھکے لگائیں گے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دور میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود خیبرپختونخوا میں امن تھا۔ ان کے مطابق افغانستان میں موجودہ حکومت کے آنے پر پاکستان میں جشن منایا گیا، اس کے باوجود آج افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے افغانستان کے معاملے پر اسٹیٹس مین کا کردار ادا کیا اور طاقتور کی نوکری کرنے کے بجائے پاکستان کے قومی مفاد میں کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکمران مختلف لوگوں کی نوکریاں کررہے ہیں، کبھی کسی کی خوشنودی کے لیے افغانستان کو ناراض کیا جاتا ہے اور کبھی چین کو۔
انہوں نے کہا کہ قومیں اور ملک اس وقت ترقی کرتے ہیں جب عوامی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ ان کے بقول پاکستان میں جو لوگ قومی مفاد اور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ ملک کو تقسیم کرنے اور قومی وسائل لوٹنے والوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان میں ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی دیکھنی ہے تو عوام کو اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا۔ تمام اداروں کا مقام بحال کرنے اور ملک کو دوبارہ وقار دلانے کے لیے عمران خان کو واپس لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی دولت بھی ان کی قیمت نہیں لگا سکتی اور پوری دنیا کی طاقت مل کر بھی انہیں نہیں جھکا سکتی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے انہیں پرامن رہنے کی تعلیم دی ہے اور وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری جنگ لڑیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ طاقتور لوگوں کو آئین، قانون، جمہوریت، آزاد میڈیا اور امن تکلیف دیتا ہے۔ عمران خان کے حقیقی آزادی کے خواب کو سب مل کر پورا کریں گے۔