
حادثے سے ایوانِ صدر تک
ڈاکٹر محمد نجیب نقی — جس نے سیاست کا انتخاب نہیں کیا، سیاست نے جسے چن لیا
بعض زندگیوں کی سمت انسان خود متعین کرتا ہے، اور بعض زندگیوں کا راستہ وقت اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
وہ سیاست میں آنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں کتاب تھی، سیاست کی فائل نہیں؛ ان کی نگاہیں مریضوں کے چہروں اور طب کی دنیا پر تھیں، اقتدار کے ایوانوں پر نہیں۔ ایچی سن کالج سے تعلیم کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا، میو اسپتال میں ہاؤس جاب شروع کی اور ایک ڈاکٹر کی زندگی ان کے سامنے پھیل رہی تھی۔
مگر پھر ایک دن تقدیر نے ان کے سامنے ایک ایسا دروازہ کھول دیا جس کے پیچھے سیاست تھی۔
اور اس دروازے پر دستک ایک حادثے نے دی۔
1990 کے آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات سے صرف ایک روز قبل ان کے والد، ریٹائرڈ کرنل محمد نقی خان، انتخابی مہم کے دوران ایک المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ وہ اس وقت آزاد کشمیر کے وزیر صحت تھے۔
چھبیس سالہ نجیب نقی میو اسپتال میں ڈاکٹر بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن اچانک باپ کا سایہ اٹھا تو خاندان کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ سیاسی چراغ بجھنے نہیں دینا چاہیے۔
بیٹے کو باپ کی جگہ کھڑا ہونا ہوگا۔
یوں ایک ڈاکٹر سیاست کے میدان میں اتر آیا۔
پہلا قدم اور پہلی ٹھوکر
1990 کا انتخاب ان کا پہلا امتحان تھا۔ مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر میدان میں اترے، مگر کامیاب نہ ہوسکے۔
شاید زندگی کا یہ پہلا سیاسی جواب ’’نہیں‘‘ تھا۔
لیکن بعض اوقات شکست راستہ بند نہیں کرتی، راستہ بدل دیتی ہے۔
ایک سال کے اندر اسمبلی تحلیل ہوگئی اور نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ ڈاکٹر نجیب نقی ایک مرتبہ پھر میدان میں اترے۔ اس مرتبہ قسمت نے دروازہ کھول دیا۔
وہ منتخب ہوگئے۔
یہ کامیابی محض ایک انتخاب جیتنے کا نام نہیں تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میو اسپتال کا نوجوان ڈاکٹر آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست کے ایک طویل سفر پر روانہ ہوا۔ ویکیپیڈیا کے دستیاب پروفائل کے مطابق وہ بعد کے برسوں میں پانچ مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن اور ایک مرتبہ کشمیر کونسل کے رکن رہے۔ ()
سیاست میں بھی قدم بہ قدم
آج کے سیاسی ماحول میں پہلی کامیابی کے ساتھ وزارت کی خواہش معمول کی بات سمجھی جا سکتی ہے، مگر ڈاکٹر نجیب نقی کے سیاسی سفر کا آغاز نسبتاً مختلف تھا۔
1991 سے 1996 تک وہ صحت اور منصوبہ بندی و ترقی کے پارلیمانی سیکریٹری رہے۔
یعنی اقتدار کے دروازے سے داخل ہوکر فوراً تخت پر بیٹھنے کے بجائے انہوں نے پہلے نظام کو سمجھا، اسمبلی کے اندر کام کیا، فائلوں کا راستہ دیکھا اور حکومت کے پہیے کو قریب سے جانا۔
1996 میں پھر کامیابی ملی، لیکن حکومت پیپلز پارٹی کی بنی اور ڈاکٹر نجیب نقی اپوزیشن بنچوں پر جا بیٹھے۔
پانچ سال بعد 2001 میں انتخابی شکست ہوئی۔ مگر سیاست نے پھر انہیں اپنے دائرے سے باہر نہیں جانے دیا۔ وہ کشمیر کونسل کے رکن منتخب ہوگئے اور 2006 تک وہاں رہے۔
یہ سفر کامیابی اور شکست، اقتدار اور اپوزیشن، وزارت اور محرومی—سب سے گزرتا رہا۔
ایک خاندان، جس کی تاریخ سیاست سے کہیں بڑی ہے
ڈاکٹر نجیب نقی کو سمجھنے کے لیے صرف ان کی سیاسی زندگی پڑھنا کافی نہیں۔ ان کے پیچھے پونچھ کی ایک ایسی خاندانی داستان کھڑی ہے جس میں بندوق سے زیادہ کتاب، منصب سے زیادہ خدمت اور سیاست سے زیادہ تعلیم کا ذکر ملتا ہے۔
ان کے دادا کرنل خان محمد خان، جنہیں محبت اور احترام سے خان صاحب اور بابائے پونچھ کہا جاتا ہے، اس داستان کا مرکزی کردار ہیں۔
وہ سپاہی بھی تھے، سیاست دان بھی، سماجی مصلح بھی اور تعلیم کے علمبردار بھی۔
پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دیں اور Indian Distinguished Service Medal حاصل کیا۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد پونچھ کے پولیس انسپکٹر رہے، لیکن ان کی زندگی کا اصل باب اس کے بعد شروع ہوا۔
انہیں اندازہ تھا کہ کسی معاشرے کو صرف نعروں سے نہیں، تعلیم سے بدلا جاتا ہے۔
مٹھی بھر آٹے سے علم کا چراغ
پونچھ کے ان علاقوں میں جہاں غربت کے باعث تعلیم ایک عیاشی محسوس ہوتی تھی، خان محمد خان نے ایک عجیب مگر نہایت سادہ خیال پیش کیا۔
مٹھی بھر آٹا۔
ہر گھر سے ہر ہفتے ایک مٹھی آٹا۔
یہ آٹا جمع ہوتا، فروخت کیا جاتا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم تعلیم پر خرچ ہوتی۔
آج کے دور میں جب بڑے بڑے تعلیمی منصوبوں کے لیے کروڑوں کے بجٹ درکار ہوتے ہیں، اس زمانے میں ایک مٹھی آٹے سے علم کے چراغ جلانے کا تصور اپنے اندر ایک پوری تہذیبی کہانی رکھتا ہے۔
1934 میں خان محمد خان نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی، جس کا مقصد دینی اور جدید تعلیم دونوں کو فروغ دینا تھا۔ اسی سال وہ ریاست جموں و کشمیر کی پہلی قانون ساز مجلس، پرجا سبھا، کے رکن منتخب ہوئے اور 1946 تک اس ایوان میں رہے۔ (Wikipedia)
یوں اس خاندان کی سیاست کی بنیاد محض اقتدار نہیں بلکہ تعلیم، سماجی خدمت اور عوامی رابطہ بھی تھی۔
1947 — تاریخ کا ایک اور باب
پھر 1947 آیا۔
کشمیر کی تاریخ کا وہ سال جس نے برصغیر کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔
خان محمد خان نے اس ہنگامہ خیز دور میں وار کونسل کے چیئرمین کے طور پر کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا یہ باب آج بھی پونچھ کی سیاسی تاریخ میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ (Dawn)
ان کے بعد ان کے بیٹے کرنل محمد نقی خان نے فوج سے سیاست کا سفر اختیار کیا۔
1975 سے 1977 تک آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے سینئر مشیر رہے، 1985 میں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1988 میں وزیر صحت و خوراک بنے۔
پھر 1990 میں وہ حادثہ پیش آیا جس نے ان کے بیٹے نجیب نقی کی زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
باپ کی موت، بیٹے کی سیاست
کبھی کبھی تاریخ کتابوں میں نہیں، ایک خاندان کے اندر لکھی جاتی ہے۔
کرنل نقی خان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا سیاست میں آیا۔ لیکن شاید ڈاکٹر نجیب نقی کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر انہیں کہاں لے جائے گا۔
1991 سے شروع ہونے والا یہ سفر 1996، 2001، 2006، 2011 اور 2016 سے گزرا۔
2006 میں وہ دوبارہ اسمبلی میں پہنچے اور صحت، آبادی بہبود، تعلیم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے ان کے پاس رہے۔ 2011 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور اپوزیشن میں بیٹھے۔
2016 نے انہیں دوبارہ اقتدار کے ایوان میں پہنچایا۔ اس بار صحت کے ساتھ خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقی جیسے اہم محکموں کی ذمہ داریاں بھی ان کے پاس آئیں۔ ان کے سیاسی کیریئر میں صحت، تعلیم، آئی ٹی، خزانہ اور ترقیاتی امور کا یہ امتزاج نمایاں رہا ہے۔ (Wikipedia)
2021 — ایک وقفہ
2021 کا انتخاب ڈاکٹر نجیب نقی کے لیے کامیابی نہیں لایا۔
لیکن سیاست میں بعض لوگ شکست کے بعد منظر سے غائب نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی سے اگلے موڑ کا انتظار کرتے ہیں۔
ڈاکٹر نجیب نقی بھی انتظار کرتے رہے۔
2026 میں ان کی سیاسی واپسی کی امید پیدا ہوئی۔ مگر پونچھ ڈویژن کے سات حلقوں، جن میں ان کا اپنا حلقہ بھی شامل تھا، میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انتخابات مؤخر ہوگئے۔ (Dawn Pass)
بظاہر یہ ایک اور رکاوٹ تھی۔
مگر شاید اس بار قسمت نے ان کے لیے انتخابی میدان سے بڑا راستہ منتخب کر رکھا تھا۔
جب راستہ ایوانِ صدر کی طرف مڑ گیا
آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا عمل مکمل ہوا تو پونچھ کی سیاسی نمائندگی کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں۔
وزیر اعظم مظفرآباد سے اور اسپیکر میرپور سے آیا تو پونچھ کے لیے صدر کے منصب کی بات سامنے آئی۔
یہیں ڈاکٹر نجیب نقی کا نام نمایاں ہوا۔
تین دہائیوں سے زیادہ کا پارلیمانی تجربہ، پونچھ سے گہرا تعلق، ایک معروف سیاسی خاندان کی میراث اور مختلف وزارتوں کا تجربہ—یہ سب عناصر ان کے نام کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔
صدر کا منصب جنوری میں بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد خالی تھا۔ اس دوران قائم مقام صدر کی ذمہ داری پہلے چوہدری لطیف اکبر اور بعد ازاں چوہدری طارق فاروق نے سنبھالی۔ (Dawn)
پھر 24 ستمبر 2026 کو وہ دن آیا۔
آزاد کشمیر اسمبلی سیکریٹریٹ میں صدارتی انتخاب ہوا۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے 32 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کو 13 ووٹ ملے۔
اور یوں میو اسپتال کا وہ ڈاکٹر، جس نے کبھی سیاست کو اپنے مستقبل کا حصہ نہیں سمجھا تھا، آزاد جموں و کشمیر کے صدر کے منصب تک پہنچ گیا۔ (Dawn Pass)
سیاست سے زیادہ شخصیت
ڈاکٹر نجیب نقی کے بارے میں ان کے قریبی حلقوں میں ایک بات بار بار سامنے آتی ہے: وہ شور کے آدمی نہیں۔
طویل سیاسی زندگی کے باوجود ان کے بارے میں نرم گفتاری، سادگی اور شائستگی کا تاثر ملتا ہے۔ دوست انہیں ایسا شخص بیان کرتے ہیں جو پروٹوکول اور نمود و نمائش سے فاصلے پر رہتا ہے۔
سیاسی اختلافات بھی ان کے مزاج کو آسانی سے تلخ نہیں کرتے۔
یہ شاید اس شخص کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو ڈاکٹر بننے کی ابتدائی خواہش سے اب تک ان کے ساتھ چلا آرہا ہے۔
ڈاکٹر کی دنیا میں مریض کا تعلق عہدے سے نہیں، ضرورت سے ہوتا ہے۔
شاید سیاست میں بھی انہوں نے لوگوں کو اسی انسانی زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی۔
رشتے بھی سیاست سے جڑے ہوئے
ان کی ذاتی زندگی بھی ملک کے معروف سیاسی خاندانوں سے جڑی ہوئی ہے۔
ان کی اہلیہ غلام دستگیر خان کی صاحبزادی ہیں، جو گوجرانوالہ کی معروف سیاسی شخصیت اور متعدد مرتبہ رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ ان کے برادرِ نسبتی انجینئر خرم دستگیر خان بھی قومی سیاست میں نمایاں رہے اور وفاقی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
ان کی اہلیہ نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا اور وہ گھریلو زندگی سے وابستہ ہیں۔ ان کے تین بیٹے ہیں، جنہوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور نجی شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خاندان کی ایک بڑی بہن نے 1988 میں راولپنڈی میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جو وقت کے ساتھ تعلیمی اداروں کے ایک سلسلے میں تبدیل ہوا۔ (مDawn)
یوں خاندان کی کہانی میں سیاست، تعلیم، فوج اور سماجی خدمت ایک دوسرے سے الگ الگ راستے نہیں بلکہ ایک ہی درخت کی شاخیں دکھائی دیتی ہیں۔
پونچھ کی طرف سے ایک سلام
ڈاکٹر نجیب نقی کا صدر بننا محض ایک شخص کے سیاسی سفر کا آخری باب نہیں۔
یہ پونچھ کے لیے بھی ایک علامتی لمحہ ہے۔
وہ پونچھ جس نے سپاہی پیدا کیے، سیاست دان پیدا کیے، استاد پیدا کیے، مصلح پیدا کیے؛ وہ پونچھ جہاں کبھی ایک مٹھی آٹے سے تعلیم کے چراغ جلانے کی کوشش ہوئی؛ وہ پونچھ جہاں سے خان محمد خان نے قانون ساز ایوان تک سفر کیا؛ وہی پونچھ آج اپنے ایک اور فرزند کو آزاد کشمیر کے سب سے بڑے آئینی منصب پر دیکھ رہی ہے۔
خان صاحب کی مٹھی میں آٹا تھا، آنکھوں میں تعلیم کا خواب۔
کرنل نقی خان کے ہاتھ میں سیاست کا پرچم تھا۔
اور نجیب نقی کے ہاتھ میں کبھی طب کی کتاب تھی۔
تین نسلیں، تین راستے، مگر منزل ایک — عوامی خدمت۔
ایک حادثہ جو راستہ بن گیا
زندگی کبھی کبھی ہمارے لیے وہ راستہ چنتی ہے جسے ہم خود کبھی نہیں چنتے۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی نے سیاست کا انتخاب نہیں کیا تھا۔
ایک حادثے نے انہیں سیاست میں دھکیل دیا۔
پہلی کوشش میں شکست ملی۔
پھر کامیابی آئی۔
کبھی اقتدار ملا، کبھی اپوزیشن؛ کبھی وزارت، کبھی محرومی؛ کبھی اسمبلی، کبھی کونسل؛ کبھی انتخابی فتح، کبھی شکست۔
اور پھر 2026 آیا۔
انتخابات کا راستہ بند ہوا تو ایوانِ صدر کا راستہ کھل گیا۔
یہ کہانی شاید اسی لیے دلچسپ ہے کہ اس میں کامیابی کا سیدھا راستہ نہیں۔ اس میں حادثہ ہے، غم ہے، شکست ہے، انتظار ہے، واپسی ہے اور آخرکار ایک ایسا منصب ہے جس کی طرف سفر شروع کرتے وقت خود مسافر کو بھی اس منزل کا اندازہ نہیں تھا۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی کے سفر کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یوں کہا جاسکتا ہے:
وہ شخص جو ڈاکٹر بننے نکلا تھا، سیاست میں آیا، پارلیمان میں تین دہائیاں گزاریں، اور بالآخر ایک ایسے آئینی منصب تک پہنچ گیا جہاں اس کے خاندان کی تین نسلوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی داستان آکر ایک نقطے پر ٹھہر گئی۔