لاہور ہائیکورٹ کا چھوٹے فونٹ میں ایف آئی آرز کے اندراج پر اظہارِ برہمی، پنجاب بھر کے تھانوں میں یکساں اور مناسب فونٹ نافذ کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا چھوٹے فونٹ میں ایف آئی آرز کے اندراج پر اظہارِ برہمی، پنجاب بھر کے تھانوں میں یکساں اور مناسب فونٹ نافذ کرنے کا حکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کے تھانوں میں انتہائی چھوٹے فونٹ میں ایف آئی آرز درج کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یکساں طرز اور مناسب فونٹ میں کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چھوٹے فونٹ میں ایف آئی آرز فراہم کیے جانے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران آئی جی پنجاب عبد الکریم اور دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد نوید شیخ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر بھی موجود تھے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ’’آپ نے دیکھی ہے ایف آئی آر؟ عینک کے ساتھ بھی نہیں پڑھی جا رہی۔ ہم ایف آئی آر پڑھیں گے یا اسے سمجھیں گے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ہر کیس میں ایف آئی آر کے چھوٹے فونٹ کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب تین صفحات کا کام ایک صفحے پر کیا جائے گا تو فونٹ چھوٹا ہی ہوگا۔ کاغذ بچانے کے نام پر ایسا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ دستاویز پڑھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’کہتے ہیں کہ ہم پیپر بچا رہے ہیں، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہوگئی ہیں۔‘‘

عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ صوبے بھر کے تمام تھانوں میں ایف آئی آرز کے اندراج کے لیے ایک ہی طرز کا مناسب اور قابلِ مطالعہ فونٹ یقینی بنایا جائے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر کا معیاری پیٹرن تیار کرکے پنجاب بھر کے تھانوں میں سرکلر کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ تمام تھانوں میں یکساں فارمیٹ اور مناسب فونٹ کے مطابق ایف آئی آرز درج کی جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں