اسلام آباد میں پاسبانِ امن و انسانیت کانفرنس، سیرتِ طیبہؐ کو امن، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عالمی منشور قرار دے دیا گیا
اسلام آباد: موجودہ دور میں عدم برداشت، انتہاپسندی، معاشرتی تقسیم اور اخلاقی زوال جیسے چیلنجز کے تناظر میں امن، برداشت، باہمی احترام اور انسانیت کی خدمت کے فروغ کے لیے نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد کے مرکزی ہال میں ایک روزہ ’’پاسبانِ امن و انسانیت کانفرنس 2026‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔
کانفرنس نیشنل لینگویج پروموشن ڈیپارٹمنٹ اور یونائیٹڈ ہیومینیٹیرین آرگنائزیشن (UHO) کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی، جس کی صدارت UHO کی بانی و چیئرپرسن ڈاکٹر دیا چوہدری نے کی، جبکہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کی علماء و مشائخ کمیٹی کے چیئرمین صاحبزادہ ذوالفقار علی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
کانفرنس میں علمی، مذہبی، سماجی اور تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات، دانشوروں اور طلبہ نے شرکت کی، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں سمیت مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا سے بھی متعدد شخصیات، کالم نگاروں اور سماجی کارکنوں نے آن لائن شرکت کی۔
کانفرنس کا بنیادی مقصد سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں معاشرے میں باہمی احترام، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، برداشت، انسانی حقوق کے تحفظ اور بلاامتیاز انسانیت کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں معاشرتی کشیدگی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے مکالمے، برداشت اور تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
کانفرنس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ قاری محمد ذیشان حیدر نے تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ سید محمد شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کی۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر دیا چوہدری نے کہا کہ آج کے ہنگامہ خیز اور انتشار زدہ دور میں معاشرے میں نفرت اور عدم برداشت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، ایسے حالات میں امن اور انسانیت کا فروغ کوئی ثانوی انتخاب نہیں بلکہ ہماری بقا کی بنیادی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک پرامن، متوازن اور مہذب معاشرے کی تشکیل برداشت، رواداری اور انسانیت کی بے لوث خدمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق سیرتِ نبوی ﷺ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن و فلاح کا عالمگیر منشور ہے۔
ڈاکٹر دیا چوہدری نے فتح مکہ کے تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے بدترین مخالفین کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کرکے دنیا کو یہ درس دیا کہ حقیقی طاقت اور عظمت انتقام لینے میں نہیں بلکہ معاف کرنے اور درگزر کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیرتِ طیبہ ﷺ کے سنہری اصولوں کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اپنایا جائے تو معاشرے سے انتہاپسندی، پرتشدد رویوں اور عدم برداشت کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔
مہمان خصوصی صاحبزادہ ذوالفقار علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نبی کریم ﷺ کی مقدس ذاتِ اقدس بھائی چارے، مساوات، عدل اور امن و سلامتی کا روشن ترین مینار ہے، جس سے انسانیت قیامت تک رہنمائی حاصل کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے علماء، مشائخ اور مذہبی رہنماؤں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منبر و محراب کو محبت، امن اور اتحاد کے فروغ کے لیے استعمال کریں اور فرقہ وارانہ نفرت کی حوصلہ شکنی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں اور مذہبی مراکز میں سیرتِ طیبہ ﷺ کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہیے جو انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور سماجی انصاف سے متعلق ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار فوز زیوب خان نے نوجوانوں میں سماجی ذمہ داری اور عدم برداشت کی روک تھام کے لیے تعلیمی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ سردار شکور نے مقامی اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کے لیے روایتی اور جدید حکمت عملیوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر بات کی۔
پروفیسر محمد علی قادر نے بین المذاہب رواداری اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے سائنسی و اخلاقی پہلوؤں کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا، جبکہ محمد حیدر علوی نے امن کا پیغام عام کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ضرورت اجاگر کی۔
فرزانہ کوثر نے معاشرے میں برداشت اور انسانیت کی خدمت کے فروغ میں خاندانی نظام اور بچوں کی تربیت کے کردار کو اہم قرار دیا۔ محمد کاشف قریشی نے معاشی ناانصافی اور غربت کے خاتمے کو انتہاپسندی کے تدارک کا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
عظمیٰ فخر نے معاشرتی امن کے قیام اور نئی نسل کی اخلاقی تربیت میں خواتین کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا، جبکہ ڈاکٹر شہباز علی عباسی نے سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں انسانی حقوق کے تحفظ کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔
بابر رضا قادری نے امن، محبت اور انسانیت کی خدمت کے فروغ میں تصوف اور خانقاہی نظام کے تاریخی کردار کو سراہا۔
کانفرنس کی نمایاں خصوصیت اس کا وسیع جغرافیائی دائرہ تھا۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک کے دور دراز اضلاع کے علاوہ مشرق وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکا سے بھی ممتاز شخصیات نے آن لائن شرکت کی۔ آن لائن شرکاء نے موجودہ عالمی حالات میں کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
کانفرنس کے اختتام پر تمام شرکاء، علماء اور سماجی رہنماؤں کی متفقہ رائے سے مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا گیا، جس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ شرکاء اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نبی کریم ﷺ کی تعلیماتِ امن، عفو و درگزر اور انسانیت کی خدمت پر کاربند رہیں گے۔
اعلامیے میں پرتشدد رویوں، فرقہ واریت اور مذہبی ناانصافی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے، یونائیٹڈ ہیومینیٹیرین آرگنائزیشن اور دیگر فلاحی اداروں کے تعاون سے مذہب و قومیت کی تفریق کے بغیر مظلوم اور ضرورت مند طبقات کی مدد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
اعلامیے میں اداروں پر بھی زور دیا گیا کہ نئی نسل کو انتہاپسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے سیمینارز، ورکشاپس اور مکالموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
مقررین کے مطابق ’’پاسبانِ امن و انسانیت کانفرنس 2026‘‘ محض ایک تقریب نہیں بلکہ امن، رواداری، باہمی احترام اور انسانیت کی خدمت کے فروغ کے لیے ایک فکری جدوجہد اور اجتماعی عزم ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور پوری انسانیت کی بقا و فلاح کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔