اسلام آباد کے کراچی کمپنی تھانے میں سینئر صحافی رانا عثمان کی گرفتاری کی اطلاعات انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
اگر صرف پولیس وین سے ملزم کے فرار کی خبر نشر کرنے اور اپنی صحافتی شناخت ظاہر کرنے پر کسی صحافی کو گرفتار کیا گیا ہے تو یہ آزادیِ صحافت پر کھلا وار اور پولیس اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔
صحافی کو خبر دینے پر حراست میں لینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اگر کسی پولیس اہلکار نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
آزادیِ صحافت کا تحفظ جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
����� �� ���� پولیس اسٹیشن کراچی کمپنی
صحافی رانا عثمان کی گرفتاری کے حوالے سے اپ ڈیٹ
▪️ معلوم ہوا ہے کہ ایس آئی احسان اللہ ڈیوٹی پر تھے جب رانا کوثر اور شہریار کے درمیان پمز ہسپتال کے کار پارکنگ/گیراج ایریا میں جھگڑا ہوا۔ اطلاع ملنے پر دونوں فریقین کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پی ایس کراچی کمپنی منتقل کر دیا گیا۔
▪️ تھانے میں، دونوں فریق پھر سے گرما گرم بحث، گالی گلوچ اور جسمانی جھگڑے میں مصروف ہو گئے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ایس آئی احسان اللہ نے دونوں اطراف سے دو افراد کو حراست میں لے کر لاک اپ میں ڈال دیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں ایک طرف سے شہریار جبکہ دوسری جانب سے رانا کوثر کے بیٹے رانا طلحہ اور رانا عثمان کو حراست میں لیا گیا ہے
اس کے بعد، ایس آئی احسان اللہ کو ہدایت کی گئی کہ صرف ان لوگوں کو ہی رکھا جائے جو براہ راست جھگڑے میں ملوث ہیں اور باقیوں کو رہا کریں۔ جس کے مطابق رانا عثمان اور دیگر افراد کو لاک اپ سے رہا کر دیا گیا جس کے بعد رانا عثمان تھانے سے روانہ ہو گئے۔
یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ روز اے ایس آئی فیاض الحسن ایک نامعلوم/مشکوک شخص کو PS کراچی کمپنی میں شفٹ کر رہے تھے کہ مشتبہ شخص پولیس کی گاڑی سے چھلانگ لگا کر راستے میں فرار ہو گیا۔
رانا عثمان نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر مذکورہ واقعہ کو غلط انداز میں پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ انہیں کراچی کمپنی پولیس نے معاملہ آن لائن پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ تاہم دستیاب حقائق کے مطابق رانا عثمان کو پمز میں جھگڑے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں حراست سے رہا کر دیا گیا تھا۔
جڑواں شہروں کی صحافی برادری ایک بار پھر نشانے پر، پولیس گردی اور فائرنگ کے واقعات نے تشویش بڑھا دی
راولپنڈی/اسلام آباد: جڑواں شہروں میں صحافی برادری ایک بار پھر مبینہ طور پر مشکلات اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ ایک جانب خبر دینے پر عثمان نامی صحافی کو مبینہ طور پر حوالات میں بند کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسلام آباد کے سینئر صحافی رانا کوثر کے گھر پر فائرنگ اور ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی راجہ پرتگین کے گھر پر فائرنگ کے واقعات نے صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے دعووں کے باوجود اگر خبر دینے والے صحافی کو ہی مبینہ طور پر پولیس کارروائی اور تشدد کا سامنا کرنا پڑے اور صحافیوں کے گھروں پر فائرنگ کے واقعات پیش آئیں تو یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
دوسری جانب جڑواں شہروں میں امن و امان کی صورتحال بھی سوالات کی زد میں ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق جرائم، چوری، ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعات میں اضافے کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔
ذرائع اور شہری حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتظامیہ اور پولیس پر ایک سیاسی جماعت کے حوالے سے مبینہ جانبداری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث عام شہریوں کے تحفظ اور بڑھتے ہوئے جرائم پر توجہ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
صحافتی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ عثمان صحافی کو مبینہ طور پر حراست میں رکھنے اور تشدد کے الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ رانا کوثر اور راجہ پرتگین کے گھروں پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔
صحافی برادری کا کہنا ہے کہ پولیس، انتظامیہ اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری شہریوں اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے؛ اگر صحافی ہی خبر دینے پر دباؤ، تشدد یا فائرنگ جیسے واقعات کا سامنا کریں تو آزادیٔ صحافت اور قانون کی حکمرانی پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
۔