کُشک ـ تیرپُل گیس منصوبے میں 20 کروڑ ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری، زلمے خلیل زاد کی ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات
کابل: افغانستان میں تیل و گیس کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزارتِ معادن و پٹرولیم اور سعودی عرب کی کمپنی ڈیلٹا انٹرنیشنل کے درمیان کُشک ـ تیرپُل نفطی و گیس حوزے کی تلاش اور استخراج کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی باختر نیوز ایجنسی (بی این اے) کے مطابق معاہدے پر پیر کو مرکز اطلاعات و میڈیا حکومت میں نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اخوند کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔
تقریب میں افغانستان کے وزیرِ معادن و پٹرولیم ملا ہدایت اللہ بدری، افغانستان بینک کے قائم مقام گورنر نوراحمد آغا، امارتِ اسلامی افغانستان کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد، سعودی کمپنی ڈیلٹا انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو شاہر التقی اور افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے ڈاکٹر زلمے خلیل زاد بھی شریک تھے۔
نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور کے دفتر کی جانب سے جاری خبرنامے کے مطابق، معاہدے کے تحت سعودی کمپنی پہلے مرحلے میں کُشک ـ تیرپُل نفطی و گیس حوزے میں موجود گیس کے سات بلاکس کی تلاش اور استخراج کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
کُشک ـ تیرپُل نفطی حوزہ افغانستان کے مغربی صوبوں ہرات اور بادغیس کے درمیان واقع ہے اور اس کا مجموعی رقبہ تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کو افغانستان کے توانائی اور قدرتی وسائل کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
زلمے خلیل زاد کی ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات
دریں اثنا، افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے ڈاکٹر زلمے خلیل زاد نے نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اخوند سے ان کے دفتر میں ملاقات بھی کی۔
ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، افغانستان میں طرزِ حکمرانی، بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے موجود سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیرِاعظم برائے اقتصادی امور کے دفتر کے مطابق زلمے خلیل زاد نے ملاقات کے دوران افغانستان کے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر، آذربائیجان اور ناروے کی بعض کمپنیاں افغانستان کے مختلف اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، جبکہ بالخصوص تیل اور گیس کی تلاش اور استخراج کے منصوبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
اس موقع پر ملا عبدالغنی برادر اخوند نے مختلف ممالک کی کمپنیوں کی جانب سے افغانستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ امارتِ اسلامی افغانستان نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے متعدد سہولیات فراہم کی ہیں اور حکومت سرمایہ کاروں کو ضروری تعاون اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
افغان حکام کے مطابق قدرتی وسائل، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور دیگر اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا حکومت کی اقتصادی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ کُشک ـ تیرپُل گیس حوزے کا نیا معاہدہ افغانستان کے تیل و گیس کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔