آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش، پولیس چوکی پر حملے کی پریس ریلیز کے بعد سوالات مزید بڑھ گئے
مظفرآباد/راولاکوٹ: آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر تشویش کا باعث بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی بندش، پونچھ اور سدھنوتی میں مواصلاتی پابندیوں کے تسلسل اور آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے پولیس چوکی پر حملے سے متعلق جاری پریس ریلیز نے صورتحال کی سنگینی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے 5 ستمبر 2026 کو جاری پریس ریلیز کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تنظیم کے شرپسند عناصر نے باغ کے علاقے میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔
پولیس کی پریس ریلیز میں کیا کہا گیا؟
پریس ریلیز کے مطابق واقعہ 5 ستمبر 2026 کی صبح تقریباً 6 بج کر 35 منٹ پر پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ شرپسند عناصر کی جانب سے پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال پر قابو پانے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے اقدامات کیے گئے، جبکہ واقعے میں پولیس کو جانی و دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
پریس ریلیز میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔
آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں بھی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک بعض عناصر پر پولیس اہلکاروں کو اغوا کرنے اور ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ایسے معاملات میں پولیس کے مؤقف اور الزامات کو سرکاری دعوے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انٹرنیٹ کی بندش نے بھی تشویش بڑھا دی
دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ سروس کے حوالے سے بھی پابندیاں عائد ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سدھنوتی اور پونچھ میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند رکھی گئی ہے، جبکہ راولاکوٹ اور گردونواح میں بھی انٹرنیٹ سروس کی بندش یا پابندی برقرار رہنے سے شہریوں، طلبہ، کاروباری افراد اور میڈیا سے وابستہ حلقوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کہ راولاکوٹ، جو پونچھ ڈویژن کا اہم سیاسی اور انتظامی مرکز ہے، گزشتہ عرصے سے سیاسی اور عوامی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
سیاسی صورتحال بھی غیر معمولی
آزاد کشمیر کی تازہ سیاسی صورتحال میں بھی کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ پونچھ اور راولاکوٹ کے بعض انتخابی معاملات ابھی زیر بحث ہیں اور انتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی۔
دوسری جانب نئی 8 رکنی آزاد کشمیر کابینہ میں کسی مہاجر رکن اسمبلی کو شامل نہ کیے جانے پر بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض سیاسی اور عوامی حلقے اس فیصلے کو حالیہ سیاسی دباؤ اور ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کابینہ میں مہاجر ارکان کو شامل نہ کرنے کی کوئی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی۔
عوام کا بنیادی سوال: آخر صورتحال کہاں جا رہی ہے؟
پولیس چوکی پر حملے، ایک پولیس اہلکار کی شہادت، مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش اور سیاسی بے چینی نے آزاد کشمیر کے عوام میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو صورتحال کی مکمل اور واضح تصویر سامنے لانی چاہیے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو اور شہریوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
آزاد کشمیر ہمیشہ اپنی قدرتی خوبصورتی، مہمان نوازی اور نسبتاً پرامن ماحول کی وجہ سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں سب سے اہم ضرورت امن، سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
**یا اللہ! آزاد کشمیر کو ایک مرتبہ پھر امن کا گہوارہ بنا دے، وہاں بسنے والے تمام لوگوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ آمین۔**