گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ، گلیشیئرز کی نگرانی اور بجلی کے منصوبوں پر توجہ، وزیراعلیٰ امجد حسین
گلگت: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) گلگت بلتستان میں مستحکم انٹرنیٹ اور سیلولر کنیکٹیویٹی کی فراہمی کے لیے بطور ریگولیٹر مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں آپٹک فائبر محدود آپشن ہے، اس لیے سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موجود تقریباً 7 ہزار گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ہنگامی حالات میں بروقت امدادی سرگرمیوں کے لیے جدید مواصلاتی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ امجد حسین نے بتایا کہ گلگت بلتستان کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے گلگت سے دیامر تک منصوبے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی عمران ندیم، اپوزیشن لیڈر حافظ حفیظ الرحمن، صوبائی وزیر سیاحت نیکنام کریم، وزیر تعلیم امان علی عامر اور وزیر بلدیات ذوالفقار علی مراد بھی موجود تھے۔
بعد ازاں گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام کی جانب سے ون ویلج ون پروڈکٹ اور ویلیو چین کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیہی علاقوں میں کمیونٹی کی شراکت سے معاشی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ نوجوانوں کو ویلج لیول پر روزگار و کاروبار کے مواقع، مقامی کسانوں اور زمینداروں کو سہولیات و آسان قرضے فراہم کرنے جبکہ مقامی مصنوعات کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر توجہ دینے کی ہدایت کی۔
2 میگاواٹ دہیتر نگر اور بڈلس پاور ہاؤسز کی اپ گریڈیشن سے متعلق محکمہ برقیات کی بریفنگ میں وزیراعلیٰ نے ناقص منصوبہ بندی اور کنسلٹنسی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاور منصوبوں میں معیار، رفتار اور مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ناقص کام اور منصوبہ بندی کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔