پٹ کمنز کی عمران خان کے حق میں حمایت، پاکستانی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
اسلام آباد: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان پٹ کمنز کی جانب سے سابق پاکستانی کپتان اور سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے طبی سہولیات، عدالتی حکم کے مطابق طبی معائنے اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کی حمایت کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ مختلف صارفین نے پٹ کمنز کے مؤقف کو سراہنے کے بجائے انہیں پاکستان کے سیاسی معاملات پر تبصرہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
پٹ کمنز نے ایکس پر سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل اور دیگر سابق عالمی کپتانوں کی جانب سے عمران خان کے معاملے پر کیے گئے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عدالت کے حکم کے مطابق طبی جائزے کو اپنا عمل مکمل کرنے دیا جائے، اہل خانہ کی ملاقاتیں جاری رہیں اور عمران خان کے ساتھ وہی وقار روا رکھا جائے جس کا ہر انسان مستحق ہے۔
کمنز کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 22 سابق عالمی کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے عمران خان کے طبی معائنے، مناسب طبی سہولیات اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے اپیل کی ہے۔
پاکستانی صارفین کا سوال: انسانی ہمدردی یا سیاسی حمایت؟
پٹ کمنز کے بیان پر پاکستانی صارف اظہر جاوید نے براہِ راست کمنز کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عمران خان پاکستانی عدالتوں سے کرپشن کے مقدمات میں سزا یافتہ ہیں، ایسے میں کیا عالمی سطح کی شخصیات کو کسی قیدی کے انسانی اور باوقار سلوک کی حمایت اور کسی سزا یافتہ شخص کی سیاسی حمایت کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے؟
اظہر جاوید نے مزید سوال کیا کہ اگر آسٹریلیا کی کوئی معروف سیاسی شخصیت کرپشن میں سزا یافتہ قرار پاتی تو کیا پٹ کمنز اسی طرح عوامی طور پر مداخلت کرتے؟
ان کے مطابق انسانی سلوک کا مطالبہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، تاہم کسی سیاسی شخصیت کے معاملے میں عوامی طور پر مداخلت ایک الگ نوعیت کا معاملہ ہے۔
ایک اور صارف کی سخت تنقید
ایک پاکستانی صارف نے پٹ کمنز کو جواب دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان کے سیاسی دور میں پاکستان کو سیاسی کشیدگی، ریاستی اداروں کے ساتھ تنازعات اور تشدد جیسے واقعات کا سامنا رہا، لیکن اس وقت عالمی کرکٹ کے بڑے نام خاموش رہے۔
صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ “دنیائے کرکٹ کے کپتان اس وقت کہاں تھے” جب پاکستان میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی، اور اب عمران خان کی جیل اور طبی صورتحال پر تشویش کیوں ظاہر کی جا رہی ہے۔
اسی تبصرے میں عمران خان کی سیاست، ان کے دورِ حکومت اور مختلف سیاسی و مالی معاملات پر سخت الزامات بھی عائد کیے گئے، تاہم ان میں سے متعدد دعوے سوشل میڈیا کے الزامات ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
عمران خان کے اثاثے بھی بحث کا موضوع بن گئے
سوشل میڈیا پر ایک اور تبصرے میں عمران خان کی دولت اور پاکستان میں غربت کے اعدادوشمار کو جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا گیا کہ جس رہنما نے عوام کو غربت سے نکالنے کے دعوے کیے، اس کے اپنے ظاہر کردہ اثاثوں میں 2018 سے 2023 کے دوران کتنا اضافہ ہوا؟
دستیاب الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 2018 میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ روپے کے اثاثے ظاہر کیے تھے۔
بعد ازاں 2023 کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ میں ان کے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت 31 کروڑ 59 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی، یعنی پانچ برس میں ظاہر کردہ اثاثوں میں تقریباً 27 کروڑ 72 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اسی فرق کو بنیاد بنا کر عمران خان کی معاشی پالیسیوں اور ان کے ذاتی اثاثوں میں اضافے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ تاہم کسی سیاسی رہنما کے اثاثوں میں اضافے کو براہِ راست ملک میں غربت میں اضافے کا سبب قرار دینا الگ دعویٰ ہے، جس کے لیے مزید معاشی شواہد درکار ہوتے ہیں۔
حکومتی مؤقف بھی سامنے آ چکا ہے
عمران خان کے علاج اور جیل میں سہولیات کے حوالے سے حکومت ان پر بدسلوکی یا طبی غفلت کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک سزا یافتہ قیدی کی حیثیت سے جیل میں طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں اور انہیں سینکڑوں ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب سابق عالمی کپتانوں کا مؤقف ہے کہ عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر مکمل عمل ہونا چاہیے اور طبی معائنے کے ساتھ اہل خانہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہیے۔
اسکائی اسپورٹس کی رپورٹ بھی تنازع کا حصہ بن گئی
عمران خان کے معاملے پر عالمی کرکٹ حلقوں میں بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب اسکائی اسپورٹس نے عمران خان کے صاحبزادوں کا انٹرویو نشر کیا، جس میں انہوں نے اپنے والد کی صحت اور جیل میں حالات پر تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس انٹرویو پر اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ احتجاج بھی کیا۔
یوں پٹ کمنز کے حالیہ بیان نے عمران خان کی جیل، طبی سہولیات اور انسانی حقوق سے متعلق پہلے سے جاری بحث کو ایک مرتبہ پھر عالمی کرکٹ کے منظرنامے میں نمایاں کردیا ہے۔ **ایک طرف سابق عالمی کپتان انسانی اور طبی بنیادوں پر عمران خان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستانی سوشل میڈیا صارفین سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ معاملہ صرف انسانی ہمدردی تک محدود ہے یا اس کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔**