اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور مشاورت ضروری ہے، اعظم نذیر تارڑ

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی اور مشاورت ضروری ہے، اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد، 25 اگست 2026: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن برائے اقلیتی حقوق کے وفد نے ملاقات کی، جس میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مختلف قانونی اور پالیسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اقلیتی برادریوں کو درپیش عملی مسائل اور قانونی رکاوٹوں کی نشاندہی پر بھی گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر اور وفد کے درمیان کرسچن میرج اینڈ ڈیوورس بل اور کرسچن پرسنل لا سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں اقلیتوں کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی سے متعلق تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اقلیتی برادریوں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے متعلقہ برادریوں سے مشاورت ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ذات کی بنیاد پر امتیاز کے تدارک کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ اقلیتی خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قانونی امور پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس کے قیام سے متعلق قانون سازی ہو چکی ہے اور کمیشن کے قیام کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ مجوزہ کمیشن اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور متعلقہ امور کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کرسچن پرسنل لا سے متعلق امور پر اقلیتی برادری کے نمائندگان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ قانون سازی اور پالیسی اقدامات میں متعلقہ اقلیتی برادریوں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھا جائے گا، جبکہ وفد کی سفارشات کا قانونی اور پالیسی تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں