پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، حافظ نعیم الرحمن

پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، حافظ نعیم الرحمن

لاہور: 25 اگست 2026ء

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی، پٹرولیم لیوی، ناجائز ٹیکسز اور آئی پی پیز کے بوجھ تلے دبے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، حکومت نے فوری طور پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور کے باہر جاری جماعت اسلامی کے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ملک گیر دھرنے دسویں روز میں داخل ہوچکے ہیں اور چاروں صوبوں میں عوام کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے منظم اور پُرامن ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ 13 ربیع الاول کو ملک گیر ہڑتال کی تاریخ دی جائے گی، جبکہ عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات بھی دھرنوں کے مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی اور تمام ناجائز و جعلی ٹیکس فوری ختم کیے جائیں، عوام کو ریلیف دیا جائے اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیکیا چلانے والے، طلبہ، مزدور اور مسافر مہنگائی سے شدید متاثر ہیں جبکہ حکمران اپنے اخراجات اور شاہ خرچیاں بڑھا رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دیگر ممالک نے جنگی حالات میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کیا، لیکن پاکستان میں حکمرانوں نے جنگ کو بھی کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ عوام پر پٹرولیم مصنوعات کی بھاری لیوی اور ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

آئی پی پیز کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ درآمدی کوئلے میں بے قاعدگیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں اور پاور ڈویژن بھی ان بے ضابطگیوں کا اعتراف کرچکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوئلے کی درآمدات اور آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار عناصر کا تعین ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ نہ بننے والی بجلی، مہنگے فیول اور غیر شفاف معاہدوں کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کے نتیجے میں ماضی میں بجلی کے نرخوں میں 10 روپے فی یونٹ کمی ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوامی دباؤ حکومت کو فیصلے تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک گیر ہڑتال، سڑکوں کی بندش اور اسلام آباد مارچ سمیت تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ڈھٹائی آزما لے، جماعت اسلامی میدان میں موجود ہے۔

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی کمیٹی کی بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائے گی۔ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی دھرنے کے مقام پر آئے اور واضح کرے کہ پٹرولیم لیوی کب ختم کی جائے گی اور عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے گا۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی پیداوار حکومتیں عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں اور عوامی طاقت کے بغیر وجود میں آنے والی حکومتیں کمزور ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ایک خاندان کی اجارہ داری ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ کو تباہ کردیا ہے اور کئی برس گزرنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔

پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 11 ہزار اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنا حکومت کی اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکام پالیسیوں نے زراعت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جبکہ عوام کے پیسوں سے اشتہاری مہمات چلائی جارہی ہیں۔

سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ میرٹ پر تحقیقات کے بعد کارروائی ہونی چاہیے، چاہے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں