پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو شٹر ڈاؤن ہوگا، اسلام آباد مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو شٹر ڈاؤن ہوگا، اسلام آباد مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

لاہور، 23 اگست 2026: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک ملک بھر میں دھرنے ختم نہیں ہوں گے، احتجاجی کیمپ مزید وسیع کیے جائیں گے اور 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی جائے گی، جس کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا مرحلہ بھی آسکتا ہے۔

لاہور میں دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران ٹیکسوں اور لیوی کے نام پر عوام سے زبردستی بھتہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کرنے کے بجائے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران اپنی مراعات ختم کریں اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ لاہور، پشاور اور کراچی کے دھرنے آٹھویں روز میں داخل ہوچکے ہیں اور جماعت اسلامی اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ روز خواتین نے بھی حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ لاہور میں رات کو بھرپور جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی احتجاج کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کی، ورنہ عوام کو مزید لوٹا جاتا۔ ان کے بقول مافیاز درآمدی ڈیزل کو مقامی ڈیزل کی لاگت کے برابر ظاہر کرکے عوام سے بھاری رقم وصول کر رہے تھے، جبکہ جنگی حالات میں بھی پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس اور لیوی عائد کی گئی۔

چینی بحران پر حکومت اور مافیاز کو تنقید

امیر جماعت اسلامی نے چینی کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور مافیاز نے مل کر 7 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی، جو ٹیکسوں کے بغیر منگوائی گئی، لیکن اس کے باوجود چینی مہنگی ہوگئی۔ اب اضافی چینی کو کم قیمت پر برآمد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور چینی مافیاز سمیت مختلف مفاداتی گروہ ملک میں موجود ہیں، جبکہ آٹا، دالیں اور سبزیاں بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ جماعت اسلامی کی تحریک کسی سیاسی شوق یا اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عوام کے بنیادی مسائل کے لیے ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے اور تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

زرعی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کی زرعی پالیسیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز مالکان کسانوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ فصل نہیں خرید سکتے، جس سے کاشتکار شدید پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے باعث زراعت زبوں حالی کا شکار ہے اور پنجاب میں کپاس کی پیداوار کا ہدف 50 فیصد بھی حاصل نہیں ہوسکا۔

حکمران اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی حکومت ناکام ہوچکی ہے اور نوجوان روزانہ پٹرول پر لیوی کی صورت میں بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق فی لٹر پٹرول پر 80 روپے لیوی سمیت تقریباً 130 روپے کے ٹیکس عائد ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب عوام سے اتنا بھاری ٹیکس وصول کیا جارہا ہے تو حکمران اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں؟

حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف کو چیلنج کیا کہ وہ اعلان کریں کہ کوئی سرکاری افسر 1300 سی سی سے بڑی گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران اشرافیہ اپنی سہولیات کم کرنے کے بجائے عوام پر بوجھ منتقل کر رہی ہے۔

حکومتی کمیٹی مسترد

حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم معاملات پر حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کمیٹی آکر بتائے کہ پٹرول کی قیمتیں کیسے کم ہوں گی، جماعت اسلامی کسی کمیٹی کی بریفنگ لینے نہیں جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سنجیدہ بات ہوگی تو بات کریں گے، لیکن پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور کسی کو تکلیف پہنچانا اس کا مقصد نہیں، تاہم سڑکوں پر پرامن احتجاج بھی حکومت کے لیے عذاب بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکن ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

ڈیزل قیمت میں کمی احتجاج کا نتیجہ قرار

دھرنوں کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تنقید کا جواب دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بعض لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ دھرنا ہورہا ہے تو پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، حالانکہ ایسی باتیں کرنے والے دراصل حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی احتجاج نہ کرتی تو ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی بھی نہ ہوتی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پٹرول پر عائد 80 روپے کی لیوی ختم کی جائے۔

سیاسی جماعتوں سے رابطے، 12 ربیع الاول کو دھرنوں میں میلاد

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں، تاہم ان کے بقول عوام کے حقیقی مسائل صرف جماعت اسلامی اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے سیاستدانوں پر ماضی کی سیاسی انجینئرنگ میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاستدان کسی کے کہنے پر حکومتیں گرانے کے اقدامات پر توبہ کریں، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں اور قوم سے معافی مانگیں۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 12 ربیع الاول کا میلاد بھی دھرنوں کے مقامات پر منائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے محض احتجاج نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جدوجہد کا حصہ ہیں اور مطالبات کی منظوری تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

عمران خان کو عدالتی ریلیف پر عملدرآمد کا مطالبہ

بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر انہیں علاج کے لیے ریلیف فراہم کرنے کا عدالتی فیصلہ آیا ہے تو حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں