مولانا فضل الرحمان کا پشاور ورکرز کنونشن سے خطاب، سیاسی و آئینی معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال
پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی آج بھی ضرورت ہے، دین اسلام کا مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے اور ملکی و مملکتی زندگی میں اللہ کے عدل کا قیام بڑی نعمت ہے۔
پشاور میں جے یو آئی (ف) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اللہ کی ذات اور اس کا بھیجا ہوا دین ہر شخص کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ آئین پاکستان میں واضح ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا، تاہم افسوس ہے کہ اس آئینی شق پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء کی جدوجہد سے آئین طے ہوا، لیکن آئین پر عمل درآمد نہ ہونا حکمرانوں کی غفلت ہے۔ دشمن کے مقابلے میں دفاعی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور دفاعی قوت سے کبھی انکار نہیں کیا، تاہم جو قوت عوام کے اختیار میں ہے اسے حاصل کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر سیاسی کارکن فوج کی حدود میں مداخلت نہیں کرسکتا تو ازروئے شریعت فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ ہم سیاست میں فوج کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے تازہ قانون سازی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کی جو شکل سامنے آ رہی ہے وہ آئین سے متصادم ہے، وزیر اعظم کے اختیارات بھی ایک شخص میں مرکوز کر دیے گئے ہیں۔ آئین کے منافی کوئی قانون موثر نہیں ہوسکتا، مگر ابھی تک نہ اس کی نشاندہی کی گئی اور نہ اسے غیر موثر کیا گیا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیوں سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، ہمارا اختلاف اصولی ہے۔ پارلیمنٹ کے اختیارات مقتدرہ کے ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کا اختیار تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم چیزوں پر اصولی اختلاف کر رہے ہیں، کسی کو گالی نہیں دے رہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سے ملاقات میں پارلیمنٹ کے اندر مشترکات پر جمع ہونے پر زور دیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کو مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ خرابیوں کو جنم لینے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق آج کل اپوزیشن کی میٹنگز بھی اسی حوالے سے ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہیں چلے گا کہ کوئی شخص طاقتور ہے اور جو چاہے کرتا رہے۔ آج مغرب اعتدال پسندی پر زور دیتا ہے لیکن اسرائیل کے مظالم کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ نہتے فلسطینیوں پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، مگر اسرائیل کو ظلم سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔
مولانا فضل الرحمان نے افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 20 سال تک افغانستان پر بمباری کی، مگر اسے کسی نے نہیں روکا۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تشویش
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار خود امن کمیٹیاں قائم کرکے بغیر وردی گھوم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنوں کے ڈی آئی جی کی سکیورٹی ایک کانسٹیبل نے کلوز کردی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ایک تھانیدار کی مار کے دعوے داروں نے ایس ایچ اوز کا حال دیکھ لیا ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ وزیر اعظم بیرونی دورے کر رہے ہیں جبکہ ملک میں خونریزی ہو رہی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے تعاون کا خیرمقدم
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بلاک کے قیام کی سمت میں یہ ایک قدم ہے۔ اسلامی دنیا اگر امریکہ پر انحصار کم کر رہی ہے تو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے معاملات پر مختلف بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں پہلے اختلاف کیا جاتا ہے اور پھر ایک ہوجاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں جبر کا ماحول ہے اور ہم اسی ماحول میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ اسلام جبر کے ماحول میں وقت گزارنے کے خلاف ہے۔ جو طاقت کے زور پر مسلط ہوگا اور معززین کو بے عزت کرے گا، ہم اس کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ رویہ درست نہیں کہ جو حکومت یا مقتدر حلقوں کا وفادار ہو وہ قابل عزت ہو، جبکہ جو پاکستان کا وفادار ہو اسے غدار قرار دے دیا جائے۔
نئے صوبوں کی مخالفت
مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام کی باتوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پورے حصے مسلح گروہوں کے قبضے میں ہیں اور ملک کے ایک حصے اور دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، ایسے حالات میں کیا بھائی بیٹھ کر گھر تقسیم کریں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنتے ہیں مگر اس کے لیے نہ ماحول موجود ہے اور نہ تیاری۔ ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور قوم پر بزور قوت فیصلہ مسلط کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت بھی ہم نے مخالفت کی تھی اور وقت نے ثابت کردیا کہ وہ فیصلہ درست نہیں تھا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کو اس لیے توڑا جا رہا ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے تحت محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھنے کے بعد اسے کم نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر صوبوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ نیا این ایف سی ایوارڈ لایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے اندر معدنی ذخائر وہاں کے عوام کا حق ہیں، لیکن انہیں اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول انہی دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری کا خطاب
کنونشن سے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی صورتحال خراب ہے اور جو باتیں قائد جمعیت نے کی ہیں وہ ہر جگہ ہوئی ہیں، تاہم یہاں کسی کو آئینہ دکھایا گیا تو اس کی برداشت ختم ہوگئی اور پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیا ہے۔
انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تحریک لبیک ہے اور نہ عمران خان کی پارٹی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ بیٹھ گئے تو لاشیں اٹھیں گی۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کارکنوں پر زور دیا کہ اگر دشمن بدمعاش بن جائے، ظلم و جبر کرے اور آواز کو دبانے کی کوشش کرے تو ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں جانے سے نہ گھبرائیں، جان کی پروا نہ کریں، ثابت قدم رہیں اور مقابلہ کریں۔