پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ میں دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے۔

سلمان اکرم راجہ اور محمود خان اچکزئی کے اہم بیانات

اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی پریس کانفرنس سپریم کورٹ میں دی گئی انڈرٹیکنگ کی خلاف ورزی ہے۔

سلمان اکرم راجہ کے مطابق انڈرٹیکنگ صرف اس حوالے سے تھی کہ میڈیکل ریکارڈ خاندان اور ذاتی ڈاکٹروں تک محدود رہے گا اور اس معاملے پر سیاست نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی میڈیکل ریکارڈ پیش ہی نہیں کیا گیا اور وہ میڈیکل بورڈ بھی تشکیل نہیں دیا گیا جس میں ڈاکٹر عظمیٰ کو شامل ہونا تھا۔

سلمان اکرم راجہ نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیے جانے کے حوالے سے حکومتی مؤقف کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شفا ہسپتال کے باہر کوئی ہجوم یا رکاوٹ موجود نہیں تھی۔ ان کے بقول ڈاکٹر فیصل سلطان کو کالے شیشوں والی گاڑی میں قافلے کی صورت میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا اور اس دوران سڑکیں مکمل طور پر خالی تھیں۔

دوسری جانب قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے مواقع ضائع کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہے اور عمران خان اس وقت ’’ضمیر کے قیدی‘‘ ہیں جو اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر اذیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کسی فوجی، وزیراعظم شہباز شریف یا نواز شریف سے ذاتی مخاصمت نہیں، اختلاف ان قوتوں سے ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتیں۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ احتجاج پرامن ہوگا، گالم گلوچ یا پتھراؤ نہیں کیا جائے گا بلکہ جلسے اور جلوس نکالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان اور تمام اتحادی جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہیں اور تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں