چکوال شیلٹر ہوم میں ایم فل طالب علم کی بطور خاکروب تعیناتی، حاضری اور بھرتی کے نظام پر سوالات اٹھ گئے


چکوال شیلٹر ہوم میں ایم فل طالب علم کی بطور خاکروب تعیناتی، حاضری اور بھرتی کے نظام پر سوالات اٹھ گئے

اسلام آباد (مسعود چوہدری): پنجاب سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے راولپنڈی ڈویژن کے تحت چکوال شیلٹر ہوم میں ایک ملازم کی تعیناتی اور اس کی بیک وقت تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آگئے ہیں۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ذوہیب اشرف کو 25 مارچ 2022 کو پانچ سالہ کنٹریکٹ پر چکوال شیلٹر ہوم میں بطور سویپر تعینات کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق ذوہیب اشرف فروری 2023 سے یونیورسٹی آف لاہور کے ایم فل پروگرام میں بطور ریگولر طالب علم زیر تعلیم تھا۔ اس صورتحال نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لاہور میں ریگولر تعلیمی پروگرام میں زیر تعلیم شخص نے چکوال شیلٹر ہوم میں اپنی روزمرہ سرکاری ڈیوٹی کس طرح انجام دی اور اس عرصے کے دوران اس کی حاضری کس بنیاد پر درج ہوتی رہی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ذوہیب اشرف نے 10 جون 2023 کو محکمہ سے ایم فل کی تعلیم کے لیے این او سی حاصل کرنے کی درخواست بھی دی۔ تاہم ریکارڈ میں یہ بات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ اس درخواست سے کئی ماہ قبل ہی یونیورسٹی آف لاہور میں داخلہ لے چکا تھا۔

معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ذوہیب اشرف کا تعلق گوجرہ، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے جبکہ اس کی سرکاری تعیناتی چکوال میں ہوئی۔ اس حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مذکورہ آسامی کے لیے بھرتی کا طریقہ کار کیا تھا، آیا اس کا باقاعدہ اشتہار جاری کیا گیا تھا اور تقرری کس میرٹ اور قواعد کے تحت عمل میں لائی گئی۔

دستاویزات میں موجود تقرری کے احکامات پر اس وقت کے ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال راولپنڈی رانا شاہد کے دستخط موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم محض دستخط موجود ہونا کسی انتظامی یا قانونی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں، اس لیے معاملے کی مکمل نوعیت طے کرنے کے لیے متعلقہ ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔

تحقیقات سے متعلق ذرائع کے مطابق اصل سوال ملازم کی حاضری، بائیومیٹرک ریکارڈ، یونیورسٹی میں کلاسز اور سرکاری ڈیوٹی کے اوقات کا باہمی تقابلی جائزہ لینے کا ہے۔ اگر مذکورہ ملازم لاہور میں ریگولر پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہا تھا تو یہ معلوم کرنا ضروری ہوگا کہ چکوال شیلٹر ہوم میں اس کی حاضری کیسے ریکارڈ کی جاتی رہی اور اس دوران اسے تنخواہ کی ادائیگی کس بنیاد پر ہوتی رہی۔

ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ملازم نے مقررہ سرکاری فرائض انجام نہیں دیے تو معاملہ محکمانہ غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی سے آگے بڑھ کر سرکاری خزانے کو ممکنہ نقصان اور سرکاری ریکارڈ کے استعمال کے حوالے سے بھی تحقیقات کا متقاضی ہوسکتا ہے۔

تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذکورہ ملازم نے واقعی ڈیوٹی انجام نہیں دی یا وہ کسی غیر قانونی طریقے سے سرکاری تنخواہ وصول کرتا رہا۔ اس کے تعین کے لیے حاضری رجسٹر، بائیومیٹرک ڈیٹا، ڈیوٹی روسٹر، تنخواہوں کا ریکارڈ، یونیورسٹی کا حاضری و کلاس شیڈول اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا آزادانہ فرانزک آڈٹ ضروری ہے۔

ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے ساتھ راولپنڈی ڈویژن اور پنجاب کے دیگر اضلاع میں سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے ماتحت اداروں کے ملازمین کی حاضری، بائیومیٹرک ریکارڈ، تعلیمی سرگرمیوں اور تنخواہوں کا بھی جامع آڈٹ کرایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ آیا یہ ایک انفرادی معاملہ ہے یا اسی نوعیت کے مزید کیسز بھی موجود ہیں۔

دوسری جانب ڈویژنل ڈائریکٹر رانا شاہد، محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال پنجاب اور ذوہیب اشرف سے معاملے پر مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کی جانب سے مؤقف فراہم نہیں کیا گیا۔ متعلقہ فریقین کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی شاملِ خبر کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں