ایف آئی اے سب انسپکٹر عدنان دلاور کو پرتگال جانے کے لیے ایکس پاکستان لیو، انکوائریوں کے باوجود خصوصی سہولت کیوں؟
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سب انسپکٹر عدنان دلاور سے متعلق ایکس پاکستان لیو، محکمانہ انکوائریوں اور بیرون ملک قیام کے معاملات نے ادارے کے اندرونی احتساب کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنے والے ایک افسر کو تین ماہ کے لیے اسپین اور پرتگال جانے کی اجازت کن بنیادوں پر دی گئی؟
دستیاب ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق عدنان دلاور سب انسپکٹر انویسٹی گیشن کے طور پر ادارے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایف آئی اے کی سینیارٹی فہرست میں ان کی تقرری 2007 میں بطور اے ایس آئی اور بعد ازاں سب انسپکٹر کے طور پر درج ہے۔
ذرائع کے مطابق عدنان دلاور 2024 میں دو ماہ کی چھٹی پر یورپ گئے تھے، تاہم مبینہ طور پر پرتگال میں قیام میں توسیع کرلی۔ واپسی پر اجازت کے بغیر غیر حاضر رہنے کے معاملے میں انہیں معطلی اور محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 2025 میں خانانی اینڈ کالیا کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر ہونے کے مرحلے پر ایف آئی اے کراچی کے اُس وقت کے ڈائریکٹر نعمان صدیقی سے درخواست کی گئی کہ عدنان دلاور کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری رکھی جائے، تاہم عدالتی کارروائی میں پیشی کے لیے ان کی معطلی ختم کردی جائے۔ اس کے بعد مبینہ طور پر انہیں دوبارہ مختلف اہم نوعیت کے ٹاسک دیے جانے لگے۔
بعد ازاں 2026 میں صرافہ بازار میں مبینہ چھاپے کے معاملے پر بھی انہیں محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
انکوائریوں کے باوجود تین ماہ کی ایکس پاکستان لیو کیوں؟
اب سب سے اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب ایک افسر کے خلاف مختلف اوقات میں محکمانہ کارروائی اور انکوائریاں زیرِ بحث رہی ہوں تو اسے تین ماہ کے لیے اسپین اور پرتگال جانے کی اجازت دینے کی ضرورت اور اس کی منظوری کی وجوہات کیا تھیں؟
کیا ایکس پاکستان لیو کی منظوری معمول کے قواعد کے تحت دی گئی، یا اس کے لیے کسی خصوصی سطح پر اجازت حاصل کی گئی؟ اگر اجازت معمول کے طریقہ کار کے مطابق دی گئی تو اس کا متعلقہ حکم نامہ اور اس کی شرائط بھی منظرعام پر آنی چاہئیں تاکہ معاملے کی شفافیت برقرار رہے۔
اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا متعلقہ افسر نے بیرون ملک قیام، چھٹی اور سفری اخراجات سے متعلق تمام قواعد و ضوابط مکمل کیے؟
کیا FIA کا داخلی احتسابی نظام غیر مؤثر ہوچکا ہے؟
یہ معاملہ ایف آئی اے کے Directorate of Internal Accountability (DIA) کے کردار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
تاہم دستیاب سرکاری ریکارڈ اس تاثر کی مکمل تائید نہیں کرتا کہ DIA غیر فعال ہوچکا ہے۔ ایف آئی اے کی 2025 کی سالانہ انتظامی رپورٹ میں DIA کو ادارے کے داخلی احتساب، شکایات، انسپیکشن اور محکمانہ کارروائیوں کے مرکزی نظام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
جنوری 2026 میں ایف آئی اے کے مطابق 2025 کے دوران 271 افسران و اہلکاروں کے خلاف مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں، جبکہ 88 اہلکار ملازمت سے برطرف کیے گئے۔
مئی 2026 میں سینیٹ کو بھی بتایا گیا کہ ایف آئی اے کے Directorate of Internal Accountability کے ذریعے داخلی نگرانی اور احتساب کا نظام فعال ہے اور 2025 میں امیگریشن سے متعلق اختیارات کے غلط استعمال پر 85 اہلکاروں کو سزا دی گئی۔
لہٰذا اصل سوال DIA کے وجود یا فعالیت سے زیادہ یہ ہے کہ اگر احتساب کا نظام اتنا فعال ہے تو زیرِ انکوائری یا سابقہ محکمانہ کارروائیوں کا سامنا کرنے والے افسران کے بیرون ملک سفر اور ایکس پاکستان لیو کی منظوری کس معیار پر دی جاتی ہے؟
دوہری شہریت یا پرتگال میں مستقل قیام کی سہولت؟
اس معاملے کا ایک اور حساس پہلو بھی زیرِ بحث ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے کہ افسر نے پرتگال میں طویل عرصہ قیام کیا اور بعد ازاں دوبارہ پرتگال/اسپین جانے کے لیے تین ماہ کی ایکس پاکستان لیو حاصل کی، تو متعلقہ حکام سے یہ وضاحت بھی طلب کی جانی چاہیے کہ آیا انہیں پرتگال میں طویل مدتی قیام، رہائش یا ممکنہ دوہری شہریت کے حصول کے لیے کسی سرکاری سطح پر کوئی سہولت فراہم کی گئی یا نہیں۔
محض بیرون ملک سفر یا ایکس پاکستان لیو کو دوہری شہریت کی سہولت کاری کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے سرکاری اجازت ناموں، چھٹی کے ریکارڈ، پاسپورٹ/امیگریشن ریکارڈ اور متعلقہ مراسلات کا جائزہ ضروری ہوگا۔
ایف آئی اے سے جواب طلب
معاملے میں شفافیت کے لیے ایف آئی اے سے درج ذیل سوالات کے جواب سامنے آنا ضروری ہیں:
1. سب انسپکٹر عدنان دلاور کو تین ماہ کی ایکس پاکستان لیو کس افسر یا اتھارٹی نے منظور کی؟
2. کیا ان کے خلاف کوئی محکمانہ انکوائری یا کارروائی اس وقت بھی زیرِ التوا ہے؟
3. 2024 میں بیرون ملک قیام میں مبینہ توسیع کے معاملے میں ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟
4. کیا انہیں 2025 میں معطلی ختم ہونے کے بعد دوبارہ اہم تفتیشی ٹاسک دیے گئے؟
5. صرافہ بازار کیس میں موجودہ محکمانہ کارروائی کی حیثیت کیا ہے؟
6. کیا انہوں نے پرتگال یا کسی دوسرے یورپی ملک میں مستقل رہائش، شہریت یا طویل مدتی قیام کے لیے درخواست دی؟
7. کیا ایف آئی اے نے ان کی ایکس پاکستان لیو منظور کرتے وقت ان کے خلاف زیرِ التوا محکمانہ معاملات کا جائزہ لیا؟
8. اگر کوئی خصوصی رعایت دی گئی تو اس کی قانونی اور انتظامی بنیاد کیا تھی؟
ایف آئی اے کی موجودہ احتسابی پالیسی کے پیش نظر ان سوالات کے واضح جوابات نہ صرف سب انسپکٹر عدنان دلاور بلکہ پورے داخلی احتسابی نظام کی ساکھ کے لیے بھی اہم ہیں۔
نوٹ: عدنان دلاور کے خلاف مذکورہ الزامات اور دعووں پر ان کا مؤقف اس خبر کی اشاعت سے قبل/بعد حاصل ہونے کی صورت میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کسی افسر کے خلاف انکوائری یا محکمانہ کارروائی بذاتِ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔