سینئر صحافی کو مبینہ قتل کی دھمکیاں، خاتون رپورٹر نے اسلام آباد پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کردیا

سینئر صحافی کو مبینہ قتل کی دھمکیاں، خاتون رپورٹر نے اسلام آباد پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کردیا

اسلام آباد: روزنامہ 92 نیوز سے وابستہ ایک سینئر رپورٹر کو مبینہ طور پر جان سے مارنے اور لاش تک نہ ملنے دینے کی دھمکیاں موصول ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

خاتون صحافی فرزانہ صدیق نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایک خاتون رپورٹر کی مبینہ کردار کشی اور اس کے خلاف نازیبا گفتگو کے بعد اس کے اہل خانہ کی جانب سے سینئر رپورٹر سے رابطہ کیا گیا تھا۔

فرزانہ صدیق کے مطابق معاملے میں مبینہ دھمکی دینے والے شخص اور سینئر رپورٹر کے درمیان نہ کوئی کاروباری لین دین، نہ محلے داری اور نہ ہی کسی سابقہ تنازعے یا تلخ کلامی کا معاملہ تھا، جس کے باعث انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی سابقہ اختلاف موجود نہیں تھا تو مبینہ طور پر اتنی سنگین دھمکی کی وجہ کیا بنی؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون رپورٹر نے مبینہ کردار کشی کے حوالے سے اپنا جواب بھی پولیس کو جمع کرایا، تاہم اس کے باوجود خاتون کے والد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کیا گیا۔

فرزانہ صدیق نے الزام عائد کیا کہ سینئر رپورٹر نے بعض صحافتی حلقوں کی حمایت حاصل کرکے اسلام آباد پولیس کے افسران پر مقدمہ درج کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ان کے بقول پولیس کے ایک افسر نے مبینہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ صحافتی تنظیم کی جانب سے احتجاج کی کال دیے جانے کے باعث پولیس دباؤ میں آ گئی۔

خاتون صحافی نے اپنی تحریر میں صحافتی تنظیموں، بعض صحافیوں اور پولیس کے کردار پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ خواتین صحافیوں کی کردار کشی، ہراسانی اور ورک پلیس سے متعلق شکایات کے معاملات میں دوہرے معیار کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس واقعے سے متعلق مکمل سی سی ٹی وی ریکارڈ اور اپنی تحریر میں کیے گئے دعوؤں کے شواہد موجود ہیں، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

فرزانہ صدیق نے متعلقہ حکام، پولیس، صحافتی اداروں اور صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی خاتون صحافی کی کردار کشی یا ہراسانی کے الزامات درست ہیں تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ مذکورہ معاملے میں شامل فریقین کے مؤقف، ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات اور پولیس کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی الزامات کی حتمی قانونی حیثیت واضح ہو سکے گی۔اگر آپ چاہیں تو میں اسی مواد کو مزید جارحانہ مگر قانونی طور پر محتاط تحقیقی خبر، بریکنگ نیوز، یا 92 نیوز/اسلام آباد پولیس پر سوال اٹھانے والی تفصیلی اسٹوری کے انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں