ڈیرہ اللہ یار میں مسلح افراد کی فائرنگ، مقامی صحافی قتل، ساتھی زخمی، ملزم گرفتار

ڈیرہ اللہ یار میں مسلح افراد کی فائرنگ، مقامی صحافی قتل، ساتھی زخمی، ملزم گرفتار

ڈیرہ اللہ یار: بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے شہر ڈیرہ اللہ یار میں مسلح افراد کی فائرنگ سے مقامی صحافی جاں بحق جبکہ ان کا ساتھی زخمی ہوگیا، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق صحافی اپنے ساتھی کے ہمراہ موجود تھے کہ مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں صحافی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ساتھی کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس نے واقعے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

صحافی کے قتل کی خبر سامنے آنے کے بعد مقامی صحافتی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ صحافتی تنظیموں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے صحافی کے قتل میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

بلوچستان میں آج ایک اور صحافی کو ابدی نیند سلادیا گیا۰
بلوچستان کے ضلع صحبت پور کے عوامی پریس کلب کے سینئیر نائب صدر حاجی نذر علی کنرانی کو ڈیرہ اللہ یار میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۰ جبکہ اس واقعہ میں دو افراد منور کنرانی اور پرویز کنرانی زخمی ہوگئے۰ صحافی کے قتل کے واقعے سے صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۰
سندھ میں بھی صحافیوں کے قتل کے واقعات تشویش ناک

صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات بلوچستان تک محدود نہیں، سندھ میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں ایک سال کے دوران تین صحافی قتل ہوئے، جس کے باعث صوبے کو صحافیوں کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔

سندھ میں قتل ہونے والے نمایاں صحافیوں میں نصر اللہ گڈانی، جان محمد مہر، اجے لالوانی اور عزیز میمن شامل ہیں۔

نصر اللہ گڈانی کو مئی 2024 میں میرپور ماتھیلو میں فائرنگ کرکے شدید زخمی کیا گیا تھا، جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ گئے۔ پولیس نے بعد میں ان کے قتل کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اسی طرح سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو بھی فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ ان کے قتل کے خلاف صحافتی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آتا رہا ہے۔

اکتوبر 2025 میں میرپور ماتھیلو کے صحافی طفیل رند کو بھی فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ وہ میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکریٹری تھے۔ واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے صحافیوں پر حملوں کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا تھا۔

صحافیوں کے مسلسل قتل کے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خصوصاً سندھ اور دیگر حساس علاقوں میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ صحافتی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ محض مذمتی بیانات کے بجائے صحافیوں پر حملوں کے مقدمات کی شفاف تحقیقات، ملزمان کی گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلوانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں