

سابق سینیٹر مشتاق احمد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی، عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا
اسلام آباد: سابق سینیٹر مشتاق احمد کو انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے مشتاق احمد کو 6 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
ذرائع کے مطابق انسدادِ دہشتگردی عدالت کے ججز کی چھٹیوں کے باعث احتساب عدالت کی جج رخشندہ شاہین بطور ڈیوٹی جج مقدمے کی سماعت کر رہی تھیں۔ دورانِ سماعت عدالتی عملے کو ہدایت کی گئی کہ کمرہ عدالت میں میڈیا کا کوئی نمائندہ موجود نہ ہو۔
مشتاق احمد کو عدالتی احاطے میں لائے جانے کے موقع پر ان کی ایس ایچ او تھانہ شالیمار شفقت فیض سے تلخ کلامی بھی ہوئی۔
کمرہ عدالت میں سابق سینیٹر مشتاق احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او شفقت فیض نے انہیں تفتیش کے لیے بلایا اور مبینہ طور پر شلوار سے پکڑ کر گرفتار کیا، جبکہ ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ مشتاق احمد کے مطابق انہیں مکے اور تھپڑ مارے گئے۔
مشتاق احمد نے عدالت میں مزید کہا کہ اگر وہ فلسطین کے لیے امداد کی بات کر سکتے ہیں تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے لیے امداد کی بات کیوں نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر دہشتگردی کی دفعات عائد کی گئی ہیں اور ان کی اہلیہ اور بیٹیوں کو بھی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت سے مشتاق احمد کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ پراسیکیوشن کے مطابق مشتاق احمد نے اپنی گاڑی سے پولیس پر فائرنگ کی، اس لیے گاڑی اور مبینہ طور پر استعمال ہونے والا ہتھیار برآمد کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مشتاق احمد کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا اور انہیں 6 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔
مشتاق احمد کی جماعت کے مطابق جمعے کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف-10 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک اجتماع منعقد کیا گیا تھا۔ جماعت کے مطابق اگلے روز مشتاق احمد کے دفتر پولیس اہلکار پہنچے اور انہیں تفتیش کے لیے تھانہ شالیمار لے جانے کا کہا، جہاں سے انہیں مبینہ طور پر حراست میں لے کر گرفتار کر لیا گیا۔
پارٹی کے مطابق مشتاق احمد کو اتوار کے روز اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پولیس کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ دیا، جس کے بعد انہیں انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مشتاق احمد کی عدالت آمد کی ویڈیو بنانے والے ان کے ایک ساتھی کا موبائل فون بھی پولیس نے تحویل میں لیا۔ تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر ویڈیوز ڈیلیٹ کروانے کے بعد موبائل فون واپس کر دیا گیا۔
مقدمے میں پولیس کی جانب سے عائد الزامات اور مشتاق احمد کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت میں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اسلام آباد کے سیکٹر F-10 مرکز میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور پرامن سیاسی سرگرمی پر اسلام آباد پولیس نے تھانہ شالیمار میں سینیٹر مشتاق احمد @SenatorMushtaq ، اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی @YousafzaiHusain اور دیگر شرکاء کے خلاف انتہائی سنگین اور انتقامی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس ایف آئی آر کو محض ایک پرامن مظاہرے پر انسدادِ دہشت گردی 7ATA، اقدامِ قتل (دفعہ 324)، ڈکیتی (دفعہ 395)، کارِ سرکار میں مداخلت (دفعہ 353) اور راستہ روکنے (دفعہ 341) جیسی مضحکہ خیز اور ڈریکونین قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے، جو کہ ریاستی انتقام کی بدترین مثال ہے۔
ایف آئی آر کا متن خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ملک میں اپنے سیاسی نظریات کے اظہار اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کو بھی سنگین جرم بنا دیا گیا ہے۔ ایک پرامن سیاسی ریلی پر دہشت گردی اور ڈکیتی کی دفعات لگانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکمران سیاسی مخالفین اور آئینی و جمہوریت پسند آوازوں سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔

قانون کی حکمرانی کے لبادے میں یہ کھلم کھلا فاشزم اور غیر اعلانیہ مارشل لاء ہے۔ آخر یہ نظام ملک پر کیا مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ جہاں کوئی شہری اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کا استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی مظلوموں کی حمایت میں بول سکتا ہے۔ جو بھی حق اور سچ کی بات کرتا ہے، اسے دہشت گردی کے مقدمات سے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہم اس فاشزم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان تمام جھوٹے مقدمات کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔