آزاد کشمیر انتخابات: مظفرآباد میں کشیدگی، اٹک میں پولنگ جاری، ایل اے 27 کا انتخاب ملتوی
دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ؛ اٹک میں 28 پولنگ اسٹیشن قائم، 400 پولیس اہلکار تعینات
اٹک/مظفرآباد (ندیم رضا خان) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ اٹک میں بھی دو حلقوں ایل اے 39 جموں 6 اور ایل اے 44 ویلی 5 کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
اٹک میں مجموعی طور پر 28 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ایل اے 39 جموں 6 کے لیے اٹک میں 4 ہزار 440 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ایل اے 44 ویلی 5 میں 67 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
اٹک میں ووٹرز کی تفصیل
ایل اے 39 جموں 6 کے ووٹرز میں تحصیل اٹک سے 292، حسن ابدال سے 144، فتح جنگ سے 1,159، پنڈی گھیب سے 2,191، جنڈ سے 656 اور حضرو سے 171 ووٹرز شامل ہیں۔
اس حلقے میں مجموعی طور پر 14 امیدوار مدمقابل ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی اور استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار شامل ہیں۔ حلقے میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجہ محمد صدیق کا تعلق اٹک سے ہے۔
دوسری جانب ایل اے 44 ویلی 5 میں 8 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ مسلم کانفرنس کی واحد خاتون امیدوار مہرالنسا بھی مقابلے میں شامل ہیں۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات
اٹک میں انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے 400 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ تاہم حضرت امام حسینؓ کے چہلم کے روٹ پر قائم دو میں سے ایک پولنگ اسٹیشن کے باعث راستوں کی بندش سے ووٹرز کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے آخری ہفتے میں پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اسسٹنٹ الیکشن کمشنر محمد عمران نے ڈی ایس پی اٹک محمد الیاس بیگ، ڈسٹرکٹ آفیسر ٹریفک خرم مرزا اور دیگر متعلقہ عملے کے ہمراہ دونوں پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کیا۔
محمد عمران نے پولنگ کے پرامن عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ انتخابات کا عمل منصفانہ، آزادانہ اور شفاف طریقے سے جاری ہے۔
ان کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے شروع ہو کر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
مظفرآباد میں کشیدگی کی اطلاعات
دوسری جانب مظفرآباد میں انتخابی عمل کے دوران بعض مقامات پر کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ٹھوٹے کے مقام پر جاری دھرنے کے دوران حالات کشیدہ ہونے اور فورسز و مظاہرین کے آمنے سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ بعض ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مظفرآباد میں سول کپڑوں میں ملبوس افراد نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
تاحال متعلقہ فورسز کی جانب سے سول کپڑوں میں ملبوس افراد کے بارے میں کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی۔
ایل اے 27 مظفرآباد ون کوٹلہ کا انتخاب ملتوی
آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے 27 مظفرآباد ون کوٹلہ میں پولنگ کا عمل ملتوی کر دیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر کے مطابق پولنگ عملہ کوٹلہ نہ پہنچ سکا، جس کے باعث حلقے میں آج انتخابی عمل کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا۔ حلقے میں سہ فریقی اور کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی۔
حلقے سے موجودہ رکن اسمبلی و وزیر سردار جاوید ایوب، مسلم لیگ (ن) کی امیدوار اور سابق وزیر نورین عارف جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار سردار تبارک میدان میں تھے۔ تینوں امیدواروں نے انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا، تاہم پولنگ عملہ نہ پہنچنے کے باعث آج کی پولنگ ملتوی کر دی گئی۔ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
انتخابی عمل پر سیاسی ردعمل
انتخابات کے حوالے سے ایک سیاسی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ عوام نے مبینہ طور پر ’’الیکشن کی بنیاد پر بدترین سلیکشن‘‘ کو مسترد کر دیا ہے اور عوام سمجھ چکے ہیں کہ جس انداز میں اس انتخابی عمل کے لیے عجلت دکھائی جا رہی ہے، اس کا مقصد اقتدار اور حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ ہے۔
اس مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری جانب عوام اپنے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے سڑکوں پر ہیں اور مظفرآباد میں کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات تشویش ناک ہیں۔
بیان میں الیکشن اصلاحات کے بغیر جمہوری نظام کو داغدار قرار دیتے ہوئے عوام سے پرامن، متحد اور پرعزم رہنے کی اپیل کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کیمپوں میں سرگرمی
ادھر صبح پونے آٹھ بجے کے بعد اٹک میں مختلف سیاسی جماعتوں کے انتخابی کیمپوں میں سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے کیمپوں میں کارکنوں اور ووٹرز کی آمد شروع ہو چکی ہے، جبکہ آئی پی پی کے بعض کیمپوں میں نسبتاً کم سرگرمی نظر آئی۔
مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے اسے اپنی جماعت کے لیے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے انتخابی فتح کی امید ظاہر کی ہے، تاہم حتمی صورتحال کا تعین پولنگ مکمل ہونے اور ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی ہوگا۔
آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔