افغان طلبہ کے ویزوں سے متعلق دعویٰ بے بنیاد ہے، پاکستانی حکام کی وضاحت

افغان طلبہ کے ویزوں سے متعلق دعویٰ بے بنیاد ہے، پاکستانی حکام کی وضاحت

اسلام آباد: افغان صحافی سمیع یوسفزئی کی جانب سے پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے ویزوں میں توسیع نہ کیے جانے اور انہیں جامعات و ہاسٹلز سے نکالے جانے کے دعوے پر پاکستانی حکام نے وضاحت جاری کردی۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں محمود جان بابر نے سمیع یوسفزئی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ پاکستان میں متعلقہ کمیشن کے سامنے اٹھایا، جس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت زیرِ تعلیم تمام طلبہ کے تعلیمی اخراجات حکومت پاکستان برداشت کر رہی ہے جبکہ ان کے ویزوں کے معاملے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سہولت فراہم کرتا ہے۔

وضاحت کے مطابق ان طلبہ کے ویزوں میں وزارتِ داخلہ متعلقہ قوانین اور طریقہ کار کے تحت باقاعدگی سے توسیع کرتی ہے اور اس وقت اسکالرشپ پروگرام کے تحت زیرِ تعلیم تمام طلبہ کے پاس درست اور مؤثر ویزے موجود ہیں۔

حکام کے مطابق حکومت پاکستان کی ایسی کوئی پالیسی نہیں جس کے تحت علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے ویزوں میں توسیع روک دی گئی ہو۔

محمود جان بابر نے کہا کہ افغان طلبہ کے ویزوں میں توسیع نہ کیے جانے سے متعلق رپورٹس یا دعوے بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق تمام زیرِ تعلیم طلبہ کے ویزے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری یا توسیع شدہ اور مؤثر ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت 5 ہزار سے زائد افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں جبکہ 1300 سے زائد طلبہ اس وقت پاکستان کی مختلف جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں۔

یہ وضاحت افغان صحافی سمیع یوسفزئی کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں اسکالرشپ پر زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو مبینہ طور پر جامعات، کلاس رومز اور ہاسٹلز سے نکالا جا رہا ہے اور انہیں ویزوں کی تجدید کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

سمیع یوسفزئی نے اپنے بیان میں افغان طلبہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو طالبان حکومت کی پالیسیوں یا اقدامات کی سزا نہیں ملنی چاہیے اور انہیں اپنی تعلیم مکمل کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔

پاکستانی حکام کی وضاحت کے بعد افغان طلبہ کے ویزوں سے متعلق دونوں متضاد دعوے سامنے آ گئے ہیں، تاہم سرکاری مؤقف کے مطابق اسکالرشپ پروگرام کے تحت زیرِ تعلیم طلبہ کے ویزے بدستور مؤثر ہیں اور ویزوں کی توسیع پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں