ڈی جی آئی ایس پی آر کی دوٹوک وارننگ: دہشتگرد ہتھیار ڈالیں یا ختم کر دیے جائیں گے، مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کی دوٹوک وارننگ: دہشتگرد ہتھیار ڈالیں یا ختم کر دیے جائیں گے، مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں

راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے اب کسی قسم کی نرمی یا مذاکرات کی گنجائش نہیں، انہیں آئین اور قانون کے مطابق ریاست کی عملداری تسلیم کرنا ہوگی، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق رواں سال اب تک 2,048 دہشتگرد مارے جا چکے ہیں جبکہ دہشتگردی کے واقعات میں 819 پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہداء میں پاک فوج کے 303 اہلکار، پولیس اور دیگر فورسز کے 194 اہلکار جبکہ 322 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کی اکثریت افغان شہریوں پر مشتمل ہے۔

پاکستان کی پہلی شناخت پاکستانی قومیت ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری سب سے پہلی پہچان پاکستان ہے، کوئی دوسری قومیت نہیں۔ آئین واضح کرتا ہے کہ ہر شہری کی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج ملک چلا رہی ہے، بلکہ ہارڈ اسٹیٹ سے مراد ایسا نظام ہے جہاں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہو۔

بلوچستان کے مسئلے پر سخت مؤقف

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ سرداری اور اشرافیہ کے قبضے کا پرانا نظام ہے۔ ان کے مطابق بعض سردار اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ غریب کا بچہ تعلیم، ترقی اور اچھے عہدوں سے محروم رہے اور ان کے زیر اثر رہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات، غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور فنڈز کے حصول کے لیے دباؤ کی سیاست اور دہشتگردی کو ہوا دیتے ہیں اور ریاست کو بلیک میل کرکے مذاکرات اور خوشامد کے طلبگار ہوتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ بعض سردار دہشتگردی میں براہ راست ملوث ہیں، جبکہ بعض کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ لیویز فورس کی تنخواہوں اور دیگر مالی مفادات کے حصول کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض عناصر کاروبار کے نام پر ڈیزل اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

بلوچستان میں بیرونی مداخلت کا الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی اہم جغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل سے خوفزدہ بیرونی طاقتیں بھی بعض اندرونی سرداروں اور اشرافیہ کے ساتھ مل کر استحصال کے اس نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

ان کے مطابق بلوچستان کے اصل اسٹیک ہولڈر وہاں کے عام عوام ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بعض عناصر بلوچستان میں ترقی کے مخالف نہیں تو پھر مزدوروں، انجینئرز اور ڈاکٹرز کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔

بھارت اور افغانستان پر دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈا دہشتگردی ہے۔ ان کے بقول فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے درمیان بنیادی فرق نہیں اور دونوں کے پیچھے بھارتی سرپرستی کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو اب صرف دفاعی انداز میں جواب نہیں دیا جا رہا بلکہ انہیں ان کے ٹھکانوں سے باہر نکل کر بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں ہونے والے حملوں میں بڑی تعداد میں افغان شہری ملوث ہیں اور ایسے عناصر کے ساتھ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

لاپتہ افراد کے معاملے پر اعداد و شمار پیش

لاپتہ افراد کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس معاملے میں مختلف اوقات میں 10 ہزار اور 20 ہزار جیسے مختلف اعداد و شمار بیان کیے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاپتہ افراد کے کمیشن میں بلوچستان سے 2,900 درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 2,700 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق بعض افراد کے بارے میں بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کالعدم عسکری تنظیموں میں شامل ہو گئے، جبکہ بعض مبینہ طور پر لڑائی میں مارے جاتے ہیں۔

ریاست کا واضح پیغام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ریاست دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب نہ کسی قسم کی نرمی کی گنجائش ہے اور نہ مذاکرات کی۔

ریاست کا پیغام واضح ہے: آئین اور قانون کی عملداری تسلیم کی جائے، بصورت دیگر قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔یہ خبر آپ کے فراہم کردہ بریفنگ پوائنٹس پر مبنی ہے؛ حالیہ طور پر دستیاب رپورٹس میں بھی ڈی جی آئی ایس پی آر کی بلوچستان، دہشتگردی، افغان سرزمین اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سخت مؤقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں