وزیر دفاع خواجہ آصف کا عبدالعلیم خان کو استعفے کا مشورہ، محسن نقوی کے بیان پر حکومتی وزراء خاموش
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے آزاد کشمیر سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں مستعفی ہو کر حکومت مخالف بینچوں پر بیٹھنے کا مشورہ دے دیا۔
خواجہ آصف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر عبدالعلیم خان کے پاس “سیلف ریسپیکٹ” نام کی کوئی چیز ہے تو وہ اپنے بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کریں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ حوصلہ کریں، صرف بیان نہ دیں، راوی کنارے جن لوگوں کو نقصان پہنچا ہے وہ گزشتہ ایک سال سے رو رہے ہیں، اسمبلی کا اجلاس آنے والا ہے، دیکھتے ہیں صرف بھڑکیں ہیں یا کوئی استعفیٰ دے کر کشمیری بھائیوں اور راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ بھی محبت اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سیاست کبھی کبھی شرم و حیا بھی مانگ لیتی ہے۔
دوسری جانب وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کے علاقے میں جتنی بھی محرومیاں ہیں، ان کے ذمہ دار وہ تمام سیاسی جماعتیں ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اقتدار میں آتی رہی ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ کشمیری عوام نے آج یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ دوبارہ دھوکے میں نہیں آئیں گے۔ سیاسی رہنما بار بار آتے ہیں، وعدے اور نعرے لگاتے ہیں، پانچ سال حکومت کے مزے لیتے ہیں اور اس کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں سے پوچھا جانا چاہیے کہ گزشتہ 25، 30 یا پانچ سال میں محرومیاں کیوں دور نہیں ہوئیں، نوجوانوں کو روزگار کیوں نہیں ملا، بنیادی صحت کی سہولیات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، بچیاں اسکولوں سے باہر کیوں ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں ترقی نہیں کر سکا۔
وزیر مواصلات نے کہا کہ “صرف ٹائم بدلا ہے، نہ شکلیں بدلی ہیں اور نہ وعدے بدلے ہیں، وہی شکلیں، وہی وعدے، صرف پانچ پانچ سال گزرتے گئے۔”
ادھر وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ملکی سیاسی نظام اور حکومت کی مدت سے متعلق اہم باتیں کیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ جب تک سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نظام درست نہیں ہوگا تو کسی بھی محنت کا فائدہ نہیں ہوگا۔
وزیر داخلہ کے مطابق فیلڈ مارشل بارہا کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا، صرف مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نہیں بلکہ تحریک انصاف کو بھی نظام کی بہتری کے لیے ساتھ آنا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے اور وفاقی وزیر داخلہ ہی رہیں گے، وزیر خارجہ نہیں بننے جا رہے۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے حوالے سے عدالتیں فیصلہ کریں گی۔
تاہم اہم امر یہ ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے عبدالعلیم خان کے بیان پر سخت ردعمل اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی اصلاح اور تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانے سے متعلق بیان کے باوجود کسی دوسرے وفاقی وزیر کی جانب سے محسن نقوی کے بیان پر تاحال کوئی نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی حلقوں میں دونوں بیانات کے تناظر میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ حکومت کے اندر مختلف اہم معاملات پر وزراء کے مؤقف میں موجود فرق آئندہ سیاسی منظرنامے پر کیا اثر ڈالے گا۔اگر چاہیں تو میں اسی مواد کی بریکنگ نیوز، ٹی وی پیکیج یا انتہائی مضبوط فیس بک پوسٹ کے انداز میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔