پشاور: ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن رانا شاہد حبیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر پاسپورٹ، نادرا، پروٹیکٹر آفس سمیت دیگر اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے میڈیکل میں جعلی سازی کرنے والی لیبارٹریوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ پروٹیکٹر آفس کے ڈائریکٹر فرخ جمال کے خلاف شکایات موصول ہو رہی تھیں، جہاں ویزا پروٹیکٹر کی تصدیق کے طریقہ کار کو بائی پاس کرکے مبینہ طور پر رشوت وصول کی جاتی تھی۔
رانا شاہد حبیب کے مطابق جن افراد سے رقم وصول کی جاتی، انہیں اسی روز پاسپورٹ فراہم کر دیا جاتا، جبکہ رشوت نہ دینے والوں کی کنفرمیشن میں کئی دن لگتے تھے۔ روزانہ پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ روپے تک رشوت وصول کرکے دفتر کے مختلف افراد میں تقسیم کی جاتی تھی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن کے مطابق ڈائریکٹر پروٹیکٹر فرخ جمال کو مبینہ طور پر رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور چھاپے کے دوران ان کے قبضے سے 7 لاکھ روپے برآمد ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک کے ویزوں کے لیے الگ الگ رشوت کے ریٹس مقرر تھے۔ قطر، دبئی اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے 20 سے 30 ہزار روپے، جبکہ سائپرس، رومانیہ اور دیگر ممالک کے لیے 60 ہزار روپے تک رشوت وصول کی جاتی تھی۔
رانا شاہد حبیب نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ معلومات بھی سامنے آئیں کہ مبینہ طور پر رقم دے کر ڈائریکٹر پروٹیکٹر کا عہدہ حاصل کیا گیا، جبکہ پندرہ روز کے دوران ڈائریکٹر کے گھر سے ایک کروڑ روپے کی مبینہ رشوت برآمد کی گئی۔