وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے کینیڈین ہائی کمشنر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی سے پاکستان میں کینیڈا کی ہائی کمشنر نے خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی، دوطرفہ تعاون اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں زراعت، معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، طلبہ و نوجوانوں کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ تعلقات، بالخصوص تجارتی روابط، مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں درآمدات و برآمدات کے فروغ کو دوطرفہ تعاون کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیڈا کان کنی، معدنیات کی تلاش، ڈرلنگ اور سروے کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت امداد سے تجارت کی جانب منتقل ہونے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، خیبرپختونخوا زراعت، معدنیات اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال کی تکمیل سے سات لاکھ ایکڑ بنجر اراضی زیرِ کاشت آئے گی اور جنوبی اضلاع میں زرعی انقلاب برپا ہوگا۔ خیبرپختونخوا اعلیٰ معیار کے آلو اور تمباکو سمیت منفرد زرعی پیداوار رکھتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور خام مال کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر توجہ دی جا رہی ہے، جس سے صنعتی سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا صوبہ ہے۔ مہمند، گبرال کالام اور داسو سمیت متعدد پن بجلی منصوبے صوبے کی توانائی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنی ٹرانسمیشن لائن کمپنی قائم کر دی ہے اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جائے گی، جس سے سرمایہ کاری کے لیے ماحول مزید پرکشش بنے گا۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا سات روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے، تاہم یہی بجلی پچاس روپے سے زائد میں واپس خریدنا پڑتی ہے۔ صوبائی حکومت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔
ملاقات میں کینیڈین سینئر ٹریڈ کمشنر کو خیبرپختونخوا کے کاروباری اداروں سے ملاقات کے لیے لانے اور صوبے میں سرمایہ کاری و تجارت کے فروغ کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔