نورالہدیٰ شاہ پاکستان کی ممتاز ترین ڈرامہ نگار، پلے رائٹر، افسانہ نگار، شاعرہ، کالم نگار، براڈکاسٹر اور میڈیا شخصیت ہیں۔ وہ سندھی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتی ہیں اور پاکستان کی بااثر ادبی اور ٹیلی ویژن شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ اپنے فکر انگیز ڈراموں اور ادبی تخلیقات کے ذریعے انہوں نے مسلسل سندھ کے سماجی حقائق، خواتین کے مسائل، انسانی رشتوں، جاگیردارانہ نظام، طبقاتی ناہمواری، انصاف اور شناخت جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا ہے۔
22 جولائی 1957 کو حیدرآباد، سندھ میں پیدا ہونے والی نورالہدیٰ شاہ ایک ممتاز ادبی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ معروف سندھی ادیب مرزا نادر بیگ کی صاحبزادی ہیں، جبکہ ان کے پڑدادا مرزا قلیچ بیگ، جو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، کی علمی و ادبی روایت نے ان کی فکری اور تخلیقی شخصیت کی تشکیل میں گہرا کردار ادا کیا۔ ادبی ماحول میں پرورش پانے کے باعث انہیں بچپن ہی سے ادب، شاعری، تھیٹر اور کہانی نویسی سے گہری دلچسپی تھی۔
انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے بطور براڈکاسٹر کیا، جہاں انہیں اسکرپٹ رائٹنگ اور نشریات کا عملی تجربہ حاصل ہوا۔ بعد ازاں وہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے وابستہ ہوئیں۔ 1983 میں ان کا شہرۂ آفاق ڈرامہ “جنگل” نشر ہوا، جس نے انہیں ملک گیر شہرت دلائی۔ اس ڈرامے کو سماجی مسائل کی حقیقت پسندانہ عکاسی اور جرات مندانہ موضوعات کی وجہ سے بے حد سراہا گیا اور یوں وہ پاکستان کی صفِ اول کی ڈرامہ نگاروں میں شامل ہوگئیں۔
اگلی کئی دہائیوں کے دوران نورالہدیٰ شاہ نے متعدد یادگار ٹیلی ویژن ڈرامے تحریر کیے، جو پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے معروف ڈراموں میں ماروی، فاصلے، تپش، ہوا کی بیٹی، من و سلویٰ، عشق گمشدہ، بے باک اور سمّی شامل ہیں۔ ان کے ڈرامے مضبوط نسوانی کرداروں، مؤثر کہانی، اور معاشرے کے محروم طبقات کی حساس عکاسی کے باعث بے حد مقبول ہوئے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے صنفی امتیاز، جاگیردارانہ استحصال، غیرت کے نام پر تشدد، غربت اور انسانی وقار جیسے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کیا، جس پر انہیں عوامی اور تنقیدی دونوں سطحوں پر بھرپور پذیرائی ملی۔
ٹیلی ویژن کے علاوہ نورالہدیٰ شاہ نے سندھی اور اردو ادب میں بھی افسانوں، شاعری، مضامین، اخباری کالموں اور اسٹیج ڈراموں کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریریں جذباتی گہرائی، مضبوط سماجی شعور اور منفرد ادبی اسلوب کی وجہ سے ممتاز سمجھی جاتی ہیں۔ وہ آج بھی معاصر سندھی ادب کی اہم ترین آوازوں میں شمار ہوتی ہیں اور ان کی تخلیقات نئی نسل کے ادیبوں اور قارئین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
ادبی اور تخلیقی خدمات کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں بھی مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ براڈکاسٹر، پروڈیوسر، اسکرپٹ رائٹر اور میڈیا ایگزیکٹو کے طور پر کام کر چکی ہیں، جبکہ معروف ٹیلی ویژن چینل اے پلس ٹی وی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بھی رہیں۔ ان کی خدمات نے پاکستان میں معیاری ٹیلی ویژن ڈرامے کی روایت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
نورالہدیٰ شاہ نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ عوامی زندگی میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ 2013 میں وہ حکومتِ سندھ میں نگراں صوبائی وزیرِ اطلاعات رہیں، جہاں انہوں نے میڈیا، ثقافت اور اطلاعات سے متعلق امور میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ وہ متعدد ادبی کانفرنسوں، ثقافتی فورمز اور ادبی تنظیموں سے وابستہ رہی ہیں اور ادب، زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔
ادب، ٹیلی ویژن ڈرامہ اور فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 2024 میں ملک کے اعلیٰ سول اعزاز پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔ آج نورالہدیٰ شاہ پاکستان کی عظیم ترین خواتین ڈرامہ نگاروں اور ادبی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، جن کی تخلیقات نے نہ صرف پاکستانی ٹیلی ویژن اور سندھی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ خواتین کے حقوق، سماجی انصاف اور ثقافتی شعور کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔