راولپنڈی ڈویژن میں بڑے پیمانے پر احتساب کی بازگشت، اعلیٰ افسران کی تبدیلیوں کے بعد کارروائیوں کی اطلاعات

راولپنڈی ڈویژن میں بڑے پیمانے پر احتساب کی بازگشت، اعلیٰ افسران کی تبدیلیوں کے بعد کارروائیوں کی اطلاعات

راولپنڈی ڈویژن میں حالیہ بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کے بعد احتسابی کارروائیوں سے متعلق مختلف دعوے اور اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم ان میں سے متعدد کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔

ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں تعینات بعض سابق اعلیٰ افسران اور ان کے مبینہ فرنٹ مینوں کے خلاف جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مختلف سرکاری حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ گزشتہ شب ایک اعلیٰ ریونیو افسر کی رہائش گاہ پر کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں نقدی، قیمتی اشیا اور کروڑوں روپے مالیت کی درآمد شدہ گاڑیاں برآمد کی گئیں۔ تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کارروائی کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

اسی طرح ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں تعینات پانچ سے چھ ایس ایچ اوز بھی متعلقہ اداروں کی نگرانی میں ہیں، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ حکومتِ پنجاب نے جولائی 2026 کے آغاز میں راولپنڈی کی سول اور پولیس انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی ڈویژن محمد عبدالعامر خٹک، ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ، سٹی پولیس آفیسر سید خالد محمود ہمدانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) کیپٹن (ر) شہریار شیرازی اور اسسٹنٹ کمشنر (صدر) حکیم خان کو عہدوں سے ہٹا کر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔

ان کی جگہ کیپٹن (ر) ندیم ناصر کو ڈپٹی کمشنر، کیپٹن (ر) طیب سمیع خان کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) جبکہ حسن مشتاق سکھیر کو نیا سٹی پولیس آفیسر (CPO) مقرر کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ان تبادلوں کے پس منظر میں راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے، اراضی اور ریونیو سے متعلق معاملات، ترقیاتی منصوبوں میں سست روی اور بعض انتظامی فیصلوں پر حکومتی تحفظات جیسے عوامل زیرِ غور رہے۔ تاہم حکومت یا متعلقہ اداروں نے ان وجوہات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

سرکاری اعلامیے یا متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی ان دعوؤں کی حتمی تصدیق ممکن ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں