پیچیدہ کیسز سلجھانے میں ڈاکٹر ایاز حسین کی تفتیشی مہارت
پنجاب پولیس میں بعض افسران اپنی پیشہ ورانہ مہارت، باریک بینی اور جدید تفتیشی انداز کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسے ہی افسران میں ایس پی سٹی اسلام آباد ڈاکٹر ایاز حسین کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے اپنے کیریئر کے دوران کئی پیچیدہ اور اندھے قتل و اغوا کے مقدمات کامیابی سے حل کیے۔
ڈاکٹر ایاز حسین جب ایس پی انویسٹیگیشن ماڈل ٹاؤن لاہور تعینات تھے تو انہوں نے ایک حاضر سروس ڈی ایس پی کی اہلیہ اور بیٹی کے اغوا اور قتل کے ہائی پروفائل کیس کی تفتیش کی۔ تحقیقات کے دوران سابق ڈی ایس پی عثمان حیدر کی سرکاری گاڑی کی سیٹوں کا کور اتارا گیا تو اندر موجود فوم سے ملنے والے شواہد نے کیس کا رخ بدل دیا۔ یہی اہم فرانزک ثبوت ملزم سے تفتیش میں فیصلہ کن ثابت ہوا اور بالآخر اس نے پولیس کو شیخوپورہ میں لاشوں تک پہنچا دیا۔
اسی طرح ایک اور اندھے قتل کے مقدمے میں پولیس کو ایک نامعلوم خاتون کی لاش سے صرف چند چابیاں، ایک چادر، سنیکرز اور پلاسٹک کے کڑے ملے تھے۔ ڈاکٹر ایاز حسین کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم نے انہی معمولی دکھائی دینے والے شواہد کو بنیاد بنا کر نہ صرف مقتولہ کی شناخت کی بلکہ ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔
ڈاکٹر ایاز حسین نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پی ایم ایس اور پھر سی ایس ایس کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور پولیس سروس میں شامل ہوئے۔ طبی تعلیم، تجزیاتی سوچ اور فرانزک شواہد پر گہری نظر نے انہیں ایک منفرد تفتیشی افسر کے طور پر شناخت دی۔
حالیہ دنوں میں بھی انہوں نے اسلام آباد میں پیش آنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں مرکزی ملزم کی گرفتاری اور فوری چالان کے ذریعے اپنی تفتیشی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
بطور صحافی، ادیب یوسفزئی نے ڈاکٹر ایاز حسین کے ساتھ متعدد اہم مقدمات کی کوریج کی ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر ایاز حسین مشکل ترین مقدمات میں بھی معمولی سے معمولی شواہد کو مؤثر انداز میں جوڑ کر حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں پولیس کے قابل اور پیشہ ور افسران کی صف میں ممتاز کرتی ہے۔