ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
تحریر: محمد عبدالشکور
شیخ امتیاز علی، پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، 104 برس کی طویل اور بابرکت عمر گزارنے کے بعد 4 جولائی 2026 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ میرے وائس چانسلر بھی تھے، میرے استاد بھی اور میرے لیے ایک مثالی شخصیت بھی۔ ان کی شفقت، انتظامی صلاحیت، جرأت اور معاملہ فہمی آج بھی میری یادوں کا روشن حصہ ہیں۔ زندگی میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی، مگر اتنی خوبیوں کا حامل انسان پھر کبھی نظر نہ آیا۔
آج ان کی یاد میں اپنی زندگی کے تین واقعات قارئین کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہوں۔
پہلا واقعہ اس زمانے کا ہے جب میں اور فرید پراچہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے منتخب صدر اور سیکریٹری تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور گورنر مصطفیٰ کھر کا دور تھا اور طلبہ سیاست اپنے عروج پر تھی۔ ایک رات اچانک پولیس بغیر اطلاع طلبہ ہاسٹلوں میں داخل ہوگئی۔ مشتعل طلبہ وائس چانسلر ہاؤس پہنچ گئے۔ کچھ افراد نے غصے میں گھر پر پتھراؤ بھی شروع کر دیا۔
شیخ امتیاز علی رات کے اس پہر نہایت جرأت کے ساتھ باہر آئے اور واضح کیا کہ انہیں پولیس کارروائی کا علم ہی نہیں تھا۔ حالات کشیدہ تھے۔ میں اور فرید پراچہ آگے بڑھے اور ان کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے۔ پتھر ہمیں بھی لگے اور شیخ صاحب بھی معمولی زخمی ہوئے، مگر وہ ثابت قدم رہے۔
اگلے روز حکومت نے مجھے، فرید پراچہ، ہمارے ساتھیوں اور مخالف امیدوار غلام عباس کو گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔ انتخابات قریب تھے۔ ایک رات ہماری رہائی کا حکم آیا۔ جب جیل سے باہر نکلے تو حیران رہ گئے۔ رات کے دو بجے شیخ امتیاز علی خود اپنی گاڑی میں ہمیں لینے آئے تھے۔ خاموشی سے ہمیں ہمارے ہاسٹلوں تک چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ یہ خاموشی بھی اپنے اندر بہت کچھ کہہ گئی۔
دوسرا واقعہ اسٹوڈنٹس یونین کے حلفِ وفاداری کی تقریب کا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ تقریب کے مہمانِ خصوصی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ہوں۔ انہوں نے دعوت قبول کر لی، مگر حکومت کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگا۔ تقریب سے ایک روز پہلے ہم مولانا کی رہائش گاہ پہنچے تو دیکھا کہ شیخ امتیاز علی بھی وہاں موجود ہیں۔ کچھ دیر بعد مولانا نے ہمیں اپنا ہاتھ سے لکھا ہوا خط دیا، جس میں انہوں نے وائس چانسلر کی درخواست پر تقریب میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے پروفیسر غفور احمد کو اپنی جگہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ خبر گورنر ہاؤس پہنچی تو مصطفیٰ کھر نے پروفیسر غفور احمد کو بھی روکنے کا حکم دیا۔ شیخ امتیاز علی نے اس موقع پر جو کردار ادا کیا، وہ ان کی جرات اور اصول پسندی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے گورنر کے نام خط لکھا کہ ایک مرتبہ انہوں نے یونیورسٹی کے مفاد میں مولانا مودودی کو قائل کر لیا، لیکن اب مزید دباؤ قبول نہیں کریں گے، اور اگر ایسا ہی کرنا ہے تو ان کا استعفیٰ منظور کر لیا جائے۔ ان کی دوٹوک بات کے بعد حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور تقریب پورے وقار سے منعقد ہوئی۔
تیسرا واقعہ نومبر 1975 کا ہے، جب اسٹوڈنٹس یونین نے “سیرت کے پیغام” کے موضوع پر مولانا مودودیؒ کو خطاب کی دعوت دی۔ فیصل آڈیٹوریم اساتذہ، طلبہ، طالبات اور شہریوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ شیخ امتیاز علی نے خود آگے بڑھ کر مولانا کا استقبال کیا۔ مولانا نے تقریباً ایک گھنٹے تک نہایت مدلل اور مؤثر خطاب کیا۔
اسی روز سہ پہر شیخ امتیاز علی لاء کالج پہنچے، جہاں وہ پرنسپل بھی تھے۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو جمع کیا اور پوچھا کہ آج کے خطاب میں کون کون شریک تھا۔ پھر افسوس کے ساتھ کہا کہ جو لوگ اس خطاب سے محروم رہے، وہ واقعی بدقسمت ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے مولانا کے خطاب کا خلاصہ اپنے ساتھی اساتذہ کو اس روانی اور صحت کے ساتھ سنایا، جیسے کوئی ٹیپ ریکارڈر پوری تقریر دہرا رہا ہو۔
شیخ امتیاز علی واقعی ایک غیر معمولی منتظم، بے مثال جرأت مند اور انتہائی شفیق انسان تھے۔ آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے تو میں اپنے رب کے حضور ان کی ان خوبیوں کی گواہی دینا چاہتا ہوں۔
ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں،
دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں۔