جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ میں مبینہ گھس کر دھمکیاں دینے پر SHO سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج

جوڈیشل مجسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ میں مبینہ گھس کر دھمکیاں دینے پر SHO سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج

لاہور: جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ لاہور اظہر حسین کی سرکاری رہائش گاہ میں رات گئے مبینہ طور پر اسلحہ سمیت داخل ہونے، اہلخانہ کو ہراساں کرنے اور جج پر دباؤ ڈالنے کے الزام میں SHO ڈیفنس سی سب انسپکٹر فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس رپورٹ کے مطابق واقعہ یکم اور 2 جولائی کی درمیانی شب تقریباً 1:40 بجے پیش آیا، جب ملزمان مبینہ طور پر دھرم پورہ لاہور میں واقع جوڈیشل ریسٹ ہاؤسز کے فیملی فلیٹ نمبر 802 میں داخل ہوئے، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر حسین اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مقیم تھے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے پہلے دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا، پھر مبینہ طور پر زبردستی گھر میں داخل ہو گئے۔ اس دوران وہ اسلحہ سے لیس تھے اور انہوں نے جج اور ان کے اہلخانہ کو دھمکیاں دیں۔ مزید الزام عائد کیا گیا کہ SHO فریاد نے جوڈیشل مجسٹریٹ پر ڈی آئی جی آپریشنز سے فون پر بات کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا، تاہم جج نے انکار کرتے ہوئے انہیں گھر سے نکل جانے کا کہا۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے سرکاری رہائش گاہ میں غیرقانونی داخل ہو کر نہ صرف چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا بلکہ اہلخانہ کو خوف و ہراس میں بھی مبتلا کیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 452 اور 506-B کے تحت SHO ڈیفنس سی سب انسپکٹر فریاد اور دو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں