کالعدم JAAC کی کور کمیٹی کے رکن راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پرامن تحریک کا رخ موڑ کر اسے پاکستان اور کشمیر کے مابین رشتے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ کا 132 الفاظ پر مبنی ویڈیو پیغام!
آج ہفتہ، 20 جون 2026 کو رات تقریباً ساڑھے 11 بجے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ کے فیس بک اکاؤنٹ سے 53 سیکنڈز کا یہ ویڈیو جاری ہوا جس میں وہ کچھ اس طرح کے الفاظ کہتے سنائی دیتے ہیں:

’میں راجہ امجد علی خان، کنوینر لیگل کمیٹی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، کچھ حقائق قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ہماری پرامن تحریک کا رخ موڑ کر اسے پاکستان اور کشمیر کے مابین رشتے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سادہ لوح نوجوانوں کو جیلوں میں پہنچایا گیا اور خود پسِ پردہ سازشیں کی گئیں۔ میری نوجوانوں سے اپیل ہے کہ خدارا اپنے مستقبل کو ایسی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں اور ہمارے بنیادی مسائل آٹا، بجلی، حقوقِ روزگار، ان کا حل تعمیری سیاست میں ہے۔ میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ میرا آج کے بعد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی یا کسی پاکستان کے خلاف اٹھنے والی کسی آواز، کسی قوم پرست، کسی الگ تھلگ سوچ یا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

پہلا ویڈیو:

اس سے قبل 6 جون 2026 کو راجہ امجد علی خان کی مظفرآباد سے پراسرار گمشدگی کے بعد جب سوشل میڈیا پر ان کی گمشدگی یا گرفتاری کے بارے میں سوال اٹھنا شروع ہوئے تو کئی گھنٹے بعد رات 1:30 پر ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک 13 سیکنڈز کا ویڈیو جاری ہوا جس میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ ’افواہوں پر کان نہ دھریں، مجھے گرفتار نہیں کیا گیا، پرامن تحریک جاری رکھیں۔‘

اس پہلی ویڈیو میں انہوں نے سلیٹی رنگ کی قیمص پہن رکھی تھی اور واسکٹ نہیں تھی۔ پس منظر میں پنکھے کا شور سا سنائی دے رہا تھا۔ پیچھے دیوار پر پھول بوٹے بھی نمایاں ہیں۔

دوسرا ویڈیو:

اس کے بعد سات جون 2026 کو دن ایک بج کر پانچ منٹ پر ان کے اکاؤنٹ سے ایک 32 سیکنڈز کی ویڈیو پوسٹ ہوئی جس میں وہ اپنی تحریک کے لوگوں سے کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ ‘جلد بازی میں کوئی اقدام نہ کریں، فی الحال رفٹ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں، پروٹیسٹ کا حتمی لائحہ عمل جلد ایک ویڈیو کی صورت میں آپ کو کونوے کیا جائے۔ عوامی حقوق کی تحریک جاری رہے گی۔‘

دوسری ویڈیو میں انہوں نے سفید قیمص شلوار پر بلیک رنگ کی واسکٹ زیب تن کر رکھی تھی۔

آج کے ’حتمی لائحہ عمل‘ والی ویڈیو میں امجد علی خان ایڈووکیٹ سفید یا سکائی بلیو کلر کے کپڑوں پر بلیک رنگ کی واسکٹ پہنے دکھائی دیتے ہیں۔

امجد علی خان کی پہلی دو ویڈیوز میں وہ سیلفی موڈ پر ویڈیو بناتے محسوس ہوتے ہیں جبکہ اس آخری ویڈیو میں ان کا موبائل کا کیمرہ ان کے سامنے ذرا نیچے (شاید کسی میز وغیرہ پر) رکھا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ان کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں۔

آخری ویڈیو کے کمنٹس بھی بند ہیں۔

مختصر یہ کہوں گا کہ راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ کا شمار ان چند افراد میں ہوتا ہے جو میز پر دلائل کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت کے لیے معروف ہیں۔
اس سےقبل 2025 میں جب راجہ امجد علی خان صاحب یورپ سے واپس اسلام آباد اہرپورٹ پر اوترے تو گرفتاری کی خبریں اور نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے دعوے کے گے پھر شام کو مظفرآباد پہنچ گے اب ان کا ویڈیو بیان جو خود ان کی فیس بک ائی سے شیر کیا گیا اس کے بعد تمام خدشات ختم ہوجاتے کچھ دوستوں کے کمنٹس نظروں سے گزارے جس میں ذکر تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے اور گن پوائنٹ پر بیان دلاہا گیا ایسا نہ تو ویڈیو میں تاثر نظر ارہیے ہے نہ چہرے سے ایسا لگتا ہے یہ بیان مرضی سے دیا گیا

راجہ امجد علی خان کی جیل سے لاتعلقی اور آزاد کشمیر کی بدلتی سیاسی بساط۔
تحریر: سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کی 9 جون کے لانگ مارچ اور لاک ڈاؤن کی کال سے قبل جب ریاستی سطح پر اس تحریک سے نمٹنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا تو انٹرنیٹ سروسز کی بندش کے ساتھ ہی 6 جون کی شام سات بجے کے بعد راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم اسی رات ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے اس خبر کی تردید کی گئی۔ اگلے روز ان کی جانب سے ایک اور بیان جاری ہوا جس میں پرامن تحریک کے تسلسل اور جلد آئندہ لائحہ عمل کے اعلان کی بات کی گئی۔
آج، لاک ڈاؤن کے بارہویں اور ان کی حراست کے سولہویں روز، راجہ امجد علی خان نے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے جاری تیسرے بیان میں کالعدم جیک سے لاتعلقی کا اعلان کیا، جو بلاشبہ آج کی سب سے اہم سیاسی خبر کے طور پر زیر بحث ہے۔ یہ بیان نہ صرف موجودہ تحریک بلکہ آنے والی انتخابی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
راجہ امجد علی خان ہمیشہ عوامی حقوق کے داعی رہے ہیں اور انہوں نے مسلسل اس مؤقف کی وکالت کی ہے کہ حقوق کا حصول صرف پرامن، جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جہاں تک پاکستان کے ساتھ تعلق کا سوال ہے تو فکری اور نظریاتی اعتبار سے ان کی وابستگی ہمیشہ واضح اور غیر مبہم رہی ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ اور نظریاتی وابستگی کے حامی رہے ہیں، اسی لیے ان کا حالیہ بیان موجودہ کشیدہ ماحول میں آگ پر پانی ڈالنے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم اس موقع پر ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر مقصد آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کے درمیان بھائی چارے، اعتماد اور محبت کے رشتے کو مضبوط کرنا ہے تو مذاکرات کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ دوسری جانب اگر کسی فرد یا گروہ کے بارے میں ریاست کے پاس پاکستان مخالف یا دشمن قوتوں کے ایجنڈے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی بھی قانون اور ثبوت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، تاکہ ایک طرف قانون کی بالادستی قائم ہو اور دوسری طرف بے جا الزامات کی سیاست کا خاتمہ ہو سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ عوامی حقوق کی تحریک کے طور پر شروع ہونے والی کالعدم جیک اس وقت اپنے بعض رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات اور متشدد طرز عمل کے باعث ایک پیچیدہ صورت حال سے دوچار ہے۔ اس پر ریاستی پابندی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عوامی سطح پر اس تحریک کو پذیرائی صرف اس کے نعروں کی وجہ سے نہیں ملی بلکہ اس کی بنیادی وجہ روایتی سیاسی جماعتوں کی ناقص کارکردگی، آمرانہ طرز عمل، بدعنوانی اور عوامی مسائل سے مسلسل لاتعلقی تھی۔
تاہم آج جیک کے اسٹیج سے جو بیانیہ سامنے آ رہا ہے، وہ آزاد کشمیر کے ایک بڑے طبقے کے لیے تشویش اور اذیت کا باعث بن چکا ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگوں کی بھاری اکثریت خود کو پاکستانی شناخت کے ساتھ جوڑتی ہے اور پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کے بیانیے کو نہ صرف سیاسی طور پر بلکہ جذباتی اور نظریاتی طور پر بھی قبول نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کے بعض حالیہ بیانات نے اس کی عوامی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
کالعدم جیک کے ماضی کے دو احتجاج اپنی کامیابیوں کے باعث ایک مثال بن گئے تھے، لیکن بظاہر ان کامیابیوں کے بعد قیادت میں حقیقت پسندی کے بجائے ہٹ دھرمی غالب آ گئی۔ بروقت اور درست سیاسی فیصلے نہ کر سکنے کی وجہ سے یہ تحریک آج شدید مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
اگر اکتوبر کے مظفرآباد معاہدے کے بعد جیک خود کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر منظم کرتی، اپنے مطالبات کو سیاسی منشور کی شکل دیتی اور آئندہ انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کی تیاری کرتی تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔ صرف چھتیس روز بعد ہونے والے عام انتخابات میں یہ ایک نئی، غیر روایتی اور شاید مقبول ترین سیاسی قوت کے طور پر سامنے آ سکتی تھی۔ عوامی حمایت، روایتی جماعتوں سے مایوسی اور تبدیلی کی خواہش اس کے لیے ایک تاریخی موقع تھی۔
لیکن آج حالات یہ ہیں کہ شاید یہ موقع اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ تحریک کی قیادت سیاسی عمل میں بروقت داخل نہ ہو سکی اور اب ریاستی پابندیوں، داخلی اختلافات اور متنازعہ بیانیوں کے باعث اس کے لیے انتخابی سیاست میں جگہ بنانا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اس کا سب سے بڑا نقصان خود جیک کو نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاست کو ہوگا۔ کیونکہ اگر ایک مضبوط، منظم اور عوامی حمایت رکھنے والی متبادل سیاسی قوت بروقت سامنے نہ آ سکی تو عوام ایک مرتبہ پھر انہی روایتی سیاسی جماعتوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے پر مجبور ہوں گے جن کی ناکامیوں کے خلاف یہ پوری عوامی تحریک کھڑی ہوئی تھی۔
آزاد کشمیر کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں صرف احتجاج، صرف طاقت یا صرف بیانیہ کافی نہیں۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ عوامی حقوق کی یہ تحریک ایک عارضی احتجاج ثابت ہوتی ہے یا اپنے تجربات سے سیکھ کر آئندہ ایک بالغ، جمہوری اور انتخابی سیاسی قوت میں تبدیل ہوتی ہے۔ کیونکہ بالآخر جدید ریاستوں میں پائیدار تبدیلی سڑکوں سے نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ، سیاسی تنظیم اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں