وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نےمتنازعہ قانون رائٹ آف وے کی شقوں کی وضاحت ایک شفاف قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے، جبکہ نجی املاک کے حقوق کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 میں رائٹ آف وے (ROW) کی شقوں کی وضاحت کر دی

اسلام آباد، 19 جون 2026ء — وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے (ROW) کی شقوں کے مقصد اور دائرۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شقوں کا مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کو تیز کرنا، عوام کے لیے بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنانا اور ایک شفاف قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے، جبکہ نجی املاک کے حقوق کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

وزارت کے مطابق، اسپیکٹرم نیلامی کے تناظر میں قابلِ اعتماد، کم لاگت اور تیز رفتار انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ مجوزہ قانون میں شامل رائٹ آف وے کی شقیں ٹیلی کام آپریٹرز کو کسی فرد کی نجی ملکیت میں مالک کی اجازت یا قانونی کارروائی کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتیں، اور نہ ہی نجی زمین کے جبری حصول کا اختیار فراہم کرتی ہیں۔

جائیداد کے مالکان کو جواب دینے، شرائط پر مذاکرات کرنے، جہاں قابلِ اطلاق ہو وہاں معاوضہ طلب کرنے، اعتراضات اٹھانے اور راستے، وقت اور رسائی جیسے معاملات پر اتفاقِ رائے کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ اگر کوئی مالک متعدد یاد دہانیوں کے باوجود جواب نہ دے تو معاملہ قانون کے مطابق مناسب سرکاری ادارے کو بھیجا جائے گا تاکہ اس پر غور اور فیصلہ کیا جا سکے۔

اس دوران ٹیلی کام آپریٹرز کو زیرِ غور معاملے کے دوران نجی زمین پر زبردستی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مجوزہ ترامیم نجی جائیداد کے جبری حصول کی بھی اجازت نہیں دیتیں۔

وزارت کے مطابق، جرمانوں سے متعلق شقیں صرف ان جائیداد مالکان پر لاگو ہوں گی جو پہلے کسی معاہدے میں شامل ہونے کے بعد اس کی شرائط سے انحراف کریں، کیونکہ اس سے سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ مزید برآں، انفراسٹرکچر بچھانے والی تنظیموں پر لازم ہوگا کہ کام مکمل ہونے کے بعد جائیداد کو اس کی اصل حالت میں بحال کریں اور کسی مستقل نقصان سے بچائیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ خدمات کو ٹیلی کام انفراسٹرکچر میں ناکافی سرمایہ کاری کے باعث سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ رائٹ آف وے کی منظوری کے پیچیدہ اور منقسم نظام، من مانی فیسوں اور غیر یکساں تقاضوں نے نیٹ ورک کی توسیع کو سست، اخراجات کو زیادہ اور صارفین کے لیے سروس کے معیار کو متاثر کیا ہے۔

ان مسائل کے حل کے لیے مجوزہ ترامیم ایک واضح اور شفاف قانونی فریم ورک متعارف کراتی ہیں، جو سرکاری املاک، ہاؤسنگ سوسائٹیوں جیسی منظم نجی ترقیاتی اسکیموں اور انفرادی نجی املاک کا احاطہ کرے گا، جبکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

وزارت نے بتایا کہ ان شقوں کا تفصیلی جائزہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے لیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے ان کے مقاصد، دائرۂ کار، نفاذ کے طریقہ کار اور شہریوں و جائیداد مالکان کے حقوق سے متعلق حفاظتی اقدامات پر تفصیلی غور کیا، جس کے بعد انہیں حتمی شکل دی گئی۔

فی الحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) (ترمیمی) بل 2026 قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن میں زیرِ غور ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ شفاف، مشاورتی اور جامع قانون سازی کے عمل کی حمایت کرتی ہے اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

وزارت کے مطابق، رائٹ آف وے سے متعلق مجوزہ اصلاحات پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے فروغ اور لاکھوں پاکستانیوں کے لیے بہتر خدمات کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ، انٹرنیٹ اور ٹیلی کام خدمات کے معیار میں بہتری اور ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کو مضبوط بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں