صومالیہ میں 52 روز سے 10 پاکستانی یرغمال، حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے: سید فراست شاہ حکومت نے یرغمال پاکستانیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا، سفارتی ذرائع مکمل طور پر استعمال کیے جائیں: ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کی پریس کانفرنس

صومالیہ میں 52 روز سے 10 پاکستانی یرغمال، حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے: سید فراست شاہ

حکومت نے یرغمال پاکستانیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا، سفارتی ذرائع مکمل طور پر استعمال کیے جائیں: ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد:11جون 2026ء
حکومت صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ 52 روز سے پاکستانی شہری یرغمال ہیں، ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان سید فراست شاہ اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے صومالیہ میں بحری قزاقوں کے پاس یرغمال 10 پاکستانی شہریوں کے لواحقین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
سید فراست شاہ نے کہا کہ 10 پاکستانی صومالیہ کے ساحل کے قریب یرغمال بنائے گئے ہیں، جن میں سے 7 خاندانوں کا تعلق کراچی سے ہے۔ یرغمالی پاکستانیوں کے لواحقین کی شکایت ہے کہ انہیں حکومتی کوششوں کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ جماعت اسلامی لواحقین کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے جتنی کوششیں ہونی چاہئیں، وہ نہیں کی جا رہیں۔ لواحقین کو حکومت سے متعدد شکایات ہیں، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے سفارتی ذرائع مکمل طور پر استعمال کرے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ حکومت کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے اور پاکستانی شہریوں کی سلامتی اور بحفاظت بازیابی کے لیے بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 52 روز سے 10 پاکستانی یرغمال ہیں، حکومت نے ان کی رہائی کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کو قیمتی زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں، اس لیے اپنے شہریوں کی حفاظت اور بازیابی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
یرغمال پاکستانی شہری یاسر کی اہلیہ مہوش نے کہا کہ ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ میرے شوہر کی رہائی کب ہوگی۔ کہیں سے کوئی اطلاع نہیں مل رہی۔ حکومت میرے شوہر کو واپس لانے میں ہماری مدد کرے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ہم کس کے پاس جائیں؟ حکومت اس معاملے میں بہت سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہمیں اپنے پیاروں کے بارے میں مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کے حکام نے پیش رفت سے متعلق کچھ معلومات فراہم کی ہیں، تاہم ان کا موقف ہے کہ تاوان کی رقم حکومت ادا نہیں کرے گی اور یہ متعلقہ کمپنی کی ذمہ داری ہے۔
یرغمالی شہری کے چچا یوسف رحمانی نے کہا کہ ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ شپنگ کمپنی کس کی ہے۔ ہمیں متاثرہ خاندانوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے۔ حکومت سے زیادہ بااختیار کوئی ادارہ نہیں، اس لیے حکومت اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے۔ ہم امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کے بھی مشکور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قزاقوں نے 30 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا ہے اور ان کے مطالبات بنیادی طور پر کمپنی سے متعلق ہیں۔

شکیل احمد ترابی سیکرٹری اطلاعات رابطہ نمبر:9559222-0321

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں