کراچی پریس کلب کے ممبرز کی ہاکس بے اسکیم 42 میں واقع جرنلسٹس ہاؤسنگ سوسائٹی ( میڈیا ٹاؤن ) میں رہائش پذیر صحافی اور ان کے اہل خانہ عدم تحفظ کا شکار چوری چکاری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے پریشان اور شدید بے چینی پائی جاتی ہے
میڈیا ٹاؤن کے رہائشی صحافیوں نے چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے خلاف موچکو تھانے میں درخواست جمع کروادی
میڈیا ٹاؤن کے اطراف چار دیواری نا ہونے کی وجہ سے نا معلوم چور با آسانی بلا خوف و خطر دن دیہاڑے وارداتیں کر رہے ہیں چور علاقے میں نصب بجلی کے سولر پول کاٹ کر لے گئے سولر پول معروف صحافی مظہر عباس کی درخواست پر گزشتہ نگراں وزیر اعلیٰ جسٹس ( ر ) مقبول باقر کے حکم پر لگائے گئے تھے جبکہ زیر تعمیر گھروں کا تعمیراتی سامان بیٹریاں وغیرہ بھی محفوظ نہیں ہیں
میڈیا ٹاون کے آباد گھروں میں بھی چور آئے روذ داخل ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جبکہ کئی گھروں میں چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں چھتوں پر لگے سولر پینل وغیرہ کی چوری معمول بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ رہائش پذیر صحافی اور ان کے اہل خانہ شدید بے چین اور خوف وہراس میں مبتلاء ہیں
واضح رہے ہاکس بے اسکیم 42 کے سیکٹر 3 اور 3A میں کراچی پریس کلب کے ممبرز کو 1995 میں 4 سو گز کے ایک ہزار سے زائد پلاٹ الاٹ کئے گئے تھے
لیکن المیہ یہ ہے کہ 30 سال کے طویل عرصے میں کراچی پریس کلب کے عہدیداران اور 20 سال سے زائد عرصے سے سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جرنلسٹس ہاؤسنگ سوسائٹی ( میڈیا ٹاؤن ) کو آباد کرنے میں ناکام رہی ہے ابھی تک پلاٹ لیز نہیں ہوئے مالکان کو لیز نہیں ملی ترقیاتی کام نا ہونے کے برابر ہے پانی بجی گیس سیوریج جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں
جرنلسٹس ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی پریس کلب ( میڈیا ٹاون ) کے گرد چار دیواری تاحال نہیں بنائی جا سکی ہے جسکی وجہ سے میڈیا ٹاؤن خیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے اپنی مدد آپ کے تحت 17 گھر آباد کرنے والے صحافی اور ان کے اہل خانہ غیر محفوظ اور خوف ہراس کا شکار ہیں جبکہ زیر تعمیر گھر بھی محفوظ نہیں ہیں
محمد عارف خان