آزادیٔ اظہارِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد اور ایک مہذب ریاست کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر سیمینار

اسلام آباد ( ): آزادیٔ اظہارِ رائے کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد اور ایک مہذب ریاست کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)، راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) اور ایپنک کے زیرِ اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں “فریڈم آف دی پریس” کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے کوآرڈینیٹر و انفارمیشن سیکرٹری آر آئی یو جے مدثر الیاس کیانی اور چیئرمین ایپنک محمد صدیق انظر نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے خطاب کیا۔ سیمینار سے سیکرٹری نیشنل پریس کلب ڈاکٹر فرقان راؤ، حاجی نواز رضا، راجہ عبدالوحید جنجوعہ، اظہر اقبال بریلوی، سیدہ ہما بتول، قیصر مرزا، عثمان جاوید ملک، کلیم شمیم، عادل شاہ، فیاض چوہدری اور حماد الحسن ایڈووکیٹ (ہیومن رائٹس) سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان نے کہا کہ پاکستان میں آزادیٔ اظہارِ رائے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 19 میں واضح ضمانت موجود ہے، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد اظہارِ رائے مزید مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق پاکستان میں صحافت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض حساس موضوعات پر بات کرنے یا سوال اٹھانے پر پروگراموں کے حصے حذف کر دیے جاتے ہیں اور صحافیوں کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارشد شریف شہید کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے 400 ملین روپے کے واجبات ادا کیے تاکہ میڈیا اداروں کو ادائیگیاں ممکن ہو سکیں، جبکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے بلاسود قرضوں اور انڈومنٹ فنڈ کو 50 کروڑ روپے تک بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا عالمی دن اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے، جو جنگ عظیم دوم کے بعد قائم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقتور کی بالادستی قائم ہے اور غزہ میں ہونے والی نسل کشی اس کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح آزادیٔ صحافت کے بڑے علمبردار تھے اور انہوں نے برطانوی دور کے سخت قوانین کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ سمیت بعض قوانین آئین کے آرٹیکل 19 اور بانیٔ پاکستان کے وژن کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج حکمران تنقید برداشت کرنے کے بجائے مقدمات درج کر رہے ہیں، جبکہ صحافیوں کے لیے پاکستان ایک خطرناک ملک بنتا جا رہا ہے۔دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادیٔ اظہارِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صحافی شدید دباؤ اور سنسرشپ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی ضمانت کے باوجود عملی طور پر اس پر مکمل عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو سچ بولنے پر دھمکیوں، مقدمات اور معاشی مسائل کا سامنا ہے، جبکہ میڈیا اداروں پر بڑھتا ہوا دباؤ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ڈاکٹر فرقان راؤ نے کہا کہ آزاد صحافت ہی معاشرے میں شفافیت اور احتساب کو ممکن بناتی ہے، اور اس کے بغیر جمہوریت ادھوری ہے۔محمد صدیق انظر نے کہا کہ میڈیا کو درپیش معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔مدثر الیاس کیانی نے کہا کہ صحافی برادری ہر دباؤ کے باوجود سچ کا ساتھ نہیں چھوڑے گی اور اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔حاجی نواز رضا نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔راجہ عبدالوحید جنجوعہ نے کہا کہ آزادیٔ صحافت پر قدغنیں دراصل عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہیں۔اظہر اقبال بریلوی نے کہا کہ میڈیا پر غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کیے بغیر جمہوری استحکام ممکن نہیں۔
سیدہ ہما بتول نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو درپیش مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔قیصر مرزا نے کہا کہ صحافت کو دبانے کی ہر کوشش معاشرے کو اندھیروں کی طرف دھکیلتی ہے۔عثمان جاوید ملک نے کہا کہ سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، یہ ہر حال میں بلند ہوتی ہے۔کلیم شمیم نے کہا کہ میڈیا ورکرز کو معاشی تحفظ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔عادل شاہ نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کے بغیر ریاستی اداروں کی اصلاح ممکن نہیں۔فیاض چوہدری نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف مقدمات کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔حماد الحسن ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے جس کا تحفظ لازم ہے۔آخر میں مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری ہر قسم کے دباؤ کے باوجود سچ اور حق کی آواز بلند کرتی رہے گی اور ملک میں آزاد، خودمختار اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جبکہ ارشد شریف شہید کی قربانی کو مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں