عظمیٰ بخاری کے بیان پر مسلم لیگ (ق) کا جوابی وار، چوہدری سالک حسین کے دفاع میں پارٹی قیادت میدان میں آگئی
اسلام آباد: صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی جانب سے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کے خلاف بیان اور مبینہ تضحیک آمیز الفاظ کے استعمال پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
مسلم لیگ (ق) کے چیف آرگنائزر اور مشیر برائے ابلاغِ عامہ ڈاکٹر محمد امجد نے عظمیٰ بخاری کے الفاظ اور الزامات کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوہدری سالک حسین نے اپنے انٹرویو میں کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ نظام میں موجود خامیوں، کرپشن اور انتظامی کوتاہیوں کی نشاندہی کی ہے۔
ڈاکٹر محمد امجد کا کہنا تھا کہ چوہدری سالک حسین نے اپنے انٹرویو میں کسی انتظامی افسر کے تبادلے یا تعیناتی کی بات نہیں کی، نہ ہی کسی کی ذات سے فائدہ اٹھانے یا کسی پر ذاتی تنقید کا معاملہ اٹھایا۔ ان کا مؤقف صرف یہ تھا کہ صوبے کے بجٹ کی منصفانہ تقسیم اور تمام اضلاع میں یکساں ترقیاتی کاموں کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبے کے ترقیاتی فنڈز تمام اضلاع میں برابری کی بنیاد پر خرچ کیے جا رہے ہیں؟ ان کے مطابق انتظامی خامیوں کی تحقیقات اور اصلاحات کرنے کے بجائے ان کی نشاندہی کرنے والے کو نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ اعلیٰ سطح پر غیر ضروری بحث شروع کرنے کے بجائے نظام کی خرابیوں کا تدارک کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان غلام مصطفیٰ ملک نے بھی عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری سالک حسین کا مؤقف بالکل واضح ہے، ڈپٹی کمشنر کسی سیاسی شخصیت کا ذاتی ملازم نہیں بلکہ اس کی بنیادی ذمہ داری عوام کی خدمت کرنا ہے۔
غلام مصطفیٰ ملک کے مطابق چوہدری سالک حسین نے اپنے انٹرویو میں ڈپٹی کمشنر کا ذکر تک نہیں کیا تھا، اس لیے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ عظمیٰ بخاری نے اسے ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی پر اعتراض کیوں سمجھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی تعیناتی سے زیادہ اہم ان کی کارکردگی اور عوام کے لیے خدمات ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ (ق) نے مزید کہا کہ چوہدری سالک حسین ہمیشہ انتظامیہ کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کے حامی رہے ہیں اور ان کا مقصد انتظامی تقرریوں کے ذریعے کنٹرول حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل اور خدمت ہے۔
غلام مصطفیٰ ملک کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، اسے ذاتی حملوں میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ عظمیٰ بخاری کو چاہیے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی معاملہ نہ بنائیں اور چوہدری سالک حسین کے مؤقف کو اسی تناظر میں دیکھیں۔